ناظمین نے بلدیاتی اداروں میں منتظمین مقرر کرنے کے فیصلے کو عدالتِ عظمیٰ میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
اِس عدالتی چارہ جوئی کے لیے سرگرم داتا گنج بخش ٹاؤن لاہور کے ناظم طارق ثنا باجوا نے گفتگو میں کہا کہ وہ اُن کے ساتھ اِس مسئلے پر متحد ہیں اور عدالت میں مقدمہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ سڑکوں پر احتجاج بھی کریں گے۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے صوبوں سے مشورہ کرنے کے بعد بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا اختیار صوبائی حکومتوں کو دینے کا اعلان کیا ہے اور وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے آئین کے شیڈیول چھ میں بلدیاتی حکومتوں کو شامل کرنا غیر قانونی اور غیر جمہوری اقدام تھا۔
ناظمین البتہ اِس کو قانونی اور آئینی سمجھتے ہیں اور نظم و نسق کی صورتِ حال کے پیشِ نظر انتخابات نہ کرانے کی دلیل کو مسترد کرتے ہیں۔
اِس حوالے سے،ناظم داتا گنج بخش ٹاؤن لاہور نے کہا کہ دنیا میں کسی بھی جگہ ایسا نظام موجود نہیں جس کے تحت آپ ’عوامی رائے‘ کو روک سکیں۔
خیال رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 2001ء میں صوبائی حکومتوں کے 13محکموں کے اختیارات بلدیاتی اداروں کو منتقل کرکے یہ نظام رائج کیا تھا اور فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد پنجاب حکومت نے سب سے پہلے اِس بلدیاتی نظام کو غیر مؤثر کرنے کے اقدامات شروع کیے کیونکہ صوبے میں بیشتر ناظمین سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ ق سے تعلق رکھتے ہیں۔