ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

”اتحادی افواج طالبان کو بلوچستان میں داخل نہیں ہونے دیں گی“

شیئر کیجیئے

اگر جنگ جو بلوچستان میں داخل ہوئے تو غیر ملکی افواج کو پاکستان کے اندر کارروائی کا بہانہ مل جائے گا: صوبہٴ بلوچستان کے سابق گورنرلیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر

وزیرا عظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اوراس کی اتحادی افواج نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان جنگ جوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کو صوبہ بلوچستان میں داخل ہو نے سے روکنے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی ۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں پچھلے چند سالوں سے علیٰحدگی پسند بلوچ تنظیموں کی طرف سے سرکاری اہل کاروں اور تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تشدد کے ان واقعات کی وجہ سے صوبے میں امن وامان کی مجموعی طور پر خراب صورت حال پاکستانی حکومت کے لیے خاصی پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے اسی تناظر میں کہا کہ سرحدی افغان صوبے میں فوجی کارروائی کے بعد پاکستان کو خدشہ ہے کہ شدت پسند پناہ کی غرض سے سرحد عبور کرکے بلوچستان کے علاقے میں داخل ہوسکتے ہیں جس سے صوبے میں عدم استحکام پیدا ہو گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اسی تناظر میں بین الاقوامی فوج کے کمانڈر وں کو پاکستانی خدشات سے آگاہ کیا گیا جس پر پاکستان کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ہلمند سے طالبان جنگ جوؤں کو بلوچستان میں داخل نہیں ہو نے دیا جائے گا۔

تاہم پاکستانی ناقدین افغانستان کے ہلمند صوبے میں جاری اس طالبان مخالف آپریشن پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ صوبہ بلوچستان کے سابق گورنرلیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں اتحادی افواج کی اس کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر جنگ جو بلوچستان میں داخل ہوتے ہیں تو نہ صرف صوبے میں بدامنی پھیلے گی بلکہ اُن کے بقول افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج پاکستان میں پناہ لینے والے ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کابہانہ بھی مل جائے گا۔

افغانستان کے جنوب میں طالبان کے مضبوط گڑھ صوبہ ہلمند میں امریکی اور افغان فوجیوں نے جمعرات کو ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا تھا ۔ ”آپریشن خنجر“ کے نام سے شروع کیے جانے والے اس آپریشن میں چار ہزار امریکی فوجی اور 650 افغان اہلکاربڑی فوجی حصہ لے رہیں جنہیں مختلف فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل ہے اور کارروائی کے آغاز کے بعد پاکستانی فوج نے اپنی جانب سرحدو ں پر نگرانی میں اضافہ کر دیا ہے۔
 

واضح رہے کہ امریکی فوجی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد رواں سال 20 اگست کو ملک میں صدارتی انتخابات سے قبل علاقے سے جنگجوؤں کو باہر دھکیلنا اور امن وامان برقرار رکھنے کے لیے ہلمند میں امریکی اور افغان فوجوں کی تعیناتی ہے۔