قومی اسمبلی کا اجلاس دو ہفتوں کے وقفے کے بعد پیر سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے جس میں متنازع قومی مصالحتی آرڈینس یعنی این آر او پر گرما گرم بحث کی توقع کی جار ہی ہے۔ دو روز قبل ایوان زیریں کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے اس صدارتی حکم نامے کی منظوری دی تھی جس کے بعد حکمران پیپلز پارٹی اسے پارلیمانی تحفظ فراہم کرنے کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
لیکن حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے ممبران نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں این آر او کی منظوری پر احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا اور انھوں نے متنبہ کر رکھا ہے کہ قومی اسمبلی میں اس دستاویز کی منظوری کو رکوانے کے لیے پارلیمان کے اندر اور باہر بھر پور مہم چلائی جائے گی۔
مسلم لیگ ن نے اعلان کیا ہے کہ وہ این آر او کے خلاف رائے عامہ کو متحرک کرنے کے لیے ایک بھر پور مہم چلائے گی۔ پارٹی کے قائد نواز شریف کے بقول اس قانون کی منظوری بدعنوانی کو جائز قرار دینے کے مترادف ہوگا اور عوامی نمائندوں پر سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ انھوں نے یہ انتباہ بھی کیا ہے اس اقدام کے بعد ان کی جماعت اور پیپلز پارٹی کے درمیان کھچاو اور کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے این آر او پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 31 جولائی کوسنا ئے گئے اپنے فیصلے میں حکومت کو پابند کیا تھا کہ اس صدارتی حکم نامے کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے لیے پارلیمان کے سامنے پیش کرے ورنہ یہ اپنی افادیت کھو دے گا۔
حکومت کے نمائندوں کا موقف ہے کہ قومی مصالحتی آرڈینس کے تحت صرف پیپلز پارٹی نہیں بلکہ مسلم لیگ ن، ایم کیو ایم اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ارکان سمیت لگ بھگ تین ہزار افراد کے مقدمات کو معاف کیا گیا ہے اس لیے اس قانون پر اعتراض کرنے والے ان کے بقول محض اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ قومی مصالحتی آرڈینس سابق صدر پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں پیش کیا تھا اور اس صدارتی حکم نامے نے 2007ء میں پیپلز پارٹی کی مقتول لیڈر بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر ملک کے موجودہ صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی کی راہ ہموار کی تھی۔
تاہم ناقدین کا موقف ہے کہ پارلیمان کی بجائے اس دستاویز کا فائدہ اٹھانے والے افراد اگر بے گناہ ہیں اور وہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنے ہیں تو انھیں عدالتوں سے رجوع کر کے اپنے خلاف بدعنوانی اور سیاسی نوعیت کے دوسرے مقدمات کو ختم کرائیں۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں سادہ اکثریت سے منظور کرانے سے این آر او کو آینی تحفظ مل جائے گا اور بقول وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کے پارلیمان سے منظوری کے بعد سپریم کورٹ این ار او پر اعتراض نہیں کر سکے گی۔ دونوں ایوانوں سے سادہ اکثریت کے لیے پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم اور جمعیت علما اسلام کی حمایت درکار ہوگی۔