ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

جنوبی وزیرستان میں ایک اور مبینہ امریکی میزائل حملہ

شیئر کیجیئے

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے جنوبی وزیر ستان میں بدھ کے روز بغیر پائلٹ کے مبینہ امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں اطلاعات کے مطابق چھ مشتبہ جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس قبائلی علاقے میں دودنوں کے دوران ہونے والا یہ دوسرا میزائل حملہ ہے۔مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ اس حملے کانشانہ کارواں منزہ کے پہاڑی علاقے میں موجود طالبان عسکریت پسندوں کا مشتبہ تربیتی مرکز تھا۔

گذشتہ روزبھی جنوبی وزیرستان کے لدھا اور مکین کے درمیان زنگڑہ کے علاقے میں مبینہ امریکی میزائل حملے میں کم از کم 14 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے تھے ۔طالبان کے زیراثر ملک کے اس دوردراز علاقے تک میڈیا کو رسائی نہیں ہے اس لیے آزاد ذرائع سے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیر ستان کے جن علاقوں میں ڈرون طیاروں سے میزائل حملے کیے جار ہے ہیں یہ علاقے پاکستانی حکومت کو انتہائی مطلوب تحریک طالبان پاکستان کے سربرا ہ بیت اللہ محسود کے مضبوط گڑھ کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت ہو ا ہے جب حکومت کی طرف سے طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کے خلاف بھرپورفوجی کارروائی کے اعلان کے بعد ”راہ نجات“ کے نام سے فوج نے جنوبی وزیرستان میں اپنی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور جیٹ طیاروں اور توپوں سے طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ اطلاعات کے مطابق زمینی فوج بھی ان علاقوں میں اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہی ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی مقامی قبائل کے خلاف نہیں کی جارہی بلکہ اس کا ہدف بیت اللہ محسوداور اُس کے عسکریت پسند ساتھی ہیں جو حکام کے بقول ملک میں ہونے والے 90 فیصد دہشت گردانہ حملوں کے ذمہ دار ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں جنوبی وزیر ستان میں طالبان جنگجوؤں کے مشتبہ ٹھکانوں پر مبینہ امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ سال اگست سے اب تک قبائلی علاقوں میں 40 سے زائد ایسے حملوں میں بیسیوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں متعدد شدت پسند بھی شامل ہیں۔
 

رائے اور تبصرہ (0)

اپنی رائے ارسال کیجئے

* لازمی



آپ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپ کے تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ممکن ہے اسے شائع نہ کیا جائے۔ وی او اے آپ کے تبصرے کو دنیا بھر میں نشر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ استعمال اور پرائیویسی نوٹس