ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

متاثرین مالاکنڈڈویژن کی گھروں کو واپسی

شیئر کیجیئے

مالاکنڈ ڈویژن کے شورش زدہ اضلاع سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد کی گھروں کی واپسی کا عمل پیر سے شروع ہو رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کے اس سلسلے میں ا بتدائی مرحلے میں ان خاندانوں پر توجہ دی جا رہی ہے جو عارضی خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں۔

لیکن ضلع صوابی میں شاہ منصور خیمہ بستی میں آباد متاثرین یہاں پر ضروری بنیادی # سہولتوں کے فقدان کے باوجود گھروں کو لوٹنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو اس بے یقینی کا شکار ہیں کے کیا سیکورٹی فورسز نے واقعی ان کے علاقوں سے طالبان شدت پسندوں کو مار بھگایا ہے جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ دو ماہ سے زائد عرصے تک ہونے والی لڑائی کی وجہ سے پانی ، بجلی، گیس اور دوسری بنیادی سہولتوں کو جونقصان پہنچا ہے کیا انتظامیہ نے انھیں بحال کر دیا ہے۔

کیمپوں میں آباد متاثرین مالاکنڈ کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان لڑائی کے دوران علاقے میں کرفیو کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک اپنے گھروں سے دور اور براہ راست معلومات کے حصول سے محروم رہے ہیں اس لیے وہ اپنے قصبوں اور دیہاتوں کی اصل صورت حال سے آگاہ نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے گذشتہ ہفتے اعلان کیاتھا کہ مالاکنڈ ڈویژن بشمول وادی سوات میں عسکریت پسندوں کے خالاف ان کے بقول کامیاب فوجی آپریشن اختتامی مرحلے میں داخل ہوگیاہے اور جن اضلاع میں حکومت کی عملداری بحال کر دی گئی ہے وہاں سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی واپسی کا عمل 13 جولائی سے شروع کیا جائے گا۔

 تا ہم اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدے داروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ متاثرین کی واپسی کا عمل مکمل طور پر رضاکارانہ ہو نا چاہیے اور حکومت پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ واپس جانے والے خاندانو ں کو نہ صرف ان کی سلامتی کی ضمانت دی جائے بلکہ بنیادی ضروریات زندگی جیسے بجلی، پانی اور گیس کی دوبارہ فراہمی کو بھی ان علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے۔

خیال رہے کے سرکاری اندازوں کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ”راہ راست“ کے آغاز کے بعد تقریبا 20 لاکھ لوگ مالا کنڈ ڈویژن کے شورش زدہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ تاہم ان متاثرین کی اکثریت نے صوبہ سرحد کے بڑے شہروں میں یا تو اپنے رشتہ داروں کے ہاں اور یا پھر کرائے کے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی۔ عارضی کیمپوں میں بنیادی سہولتوں کے فقدان اور سخت گرمی کی وجہ سے بہت کم خاندانوں نے یہاں کا رخ کیا۔ متاثرین کی ایک بڑی تعداد کومردان، پشاور اور صوابی کے سکولوں میں بھی ٹھہر ایا گیا ہے۔