ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

کشمیریوں کےحق خود ارادیت سے پسپائی کا الزام مسترد

شیئر کیجیئے

لندن کی جموں کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق نے پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیرکی کشمیری قیادت اور حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں میں منقسم علاقے کے عوام کےحق خود ارادیت کے اصل سے پسپائی اختیار کر رکھی ہے۔

جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں اقوام متحدہ میں مشاورتی حیثیت رکھنے والی اس غیر سرکاری تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے منقسم کشمیر کے عوام سے حق خود اردیت یعنی انہیں اپنے مستقبل کے تعین کا اختیار دینے کا وعدہ کر رکھا  ہے اور ان کے بقول دونوں اطراف کشمیری قیادت اور پاکستانی رہنماوں کو چاہیئے  کے وہ موثر انداز میں اس اصول کا دفاع کریں۔

تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ  کشمیر کے حل کے لیے اگر باضابطہ یا پس پردہ مذاکرات ہوں تو یہ خوش آئند ہیں تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ اس دیرینہ  مسئلے کے حل کے لیے کوئی ایسا سیاسی طرز عمل نہیں اپنایا جانا چاہیئے جو غیر جمہوری اور غیرشفاف ہو۔

دریں اثنا پاکستانی کشمیر کے سابق صدر اور حکمران مسلم کانفرنس کے سینئر رہنما سردار عبدالقیوم نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں تنظیم کی طرف سے عائد کردہ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان الزامات کا مقصد  محض غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری رہنما مکمل طور پر حق خود ارادیت کے اس اصول پر قائم ہیں جس کی وضاحت اقوام متحدہ نے کی ہے اسے کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے بقول اس سلسلے میں الزامات لگانے والے حق خود ارادیت کی اپنے الفاظ میں تشریح کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ اصل تشریح صرف وہی ہے جو اقوام متحدہ نے کی ہے۔

ڈاکٹر نذیر کے الزام سے قطعہ نظر پاکستانی حکومت کی واضح پالیسی رہی ہے کہ مسئلہ  کشمیر کا وہی حل قابل قبول ہوگا جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال ہونے والے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت دوسرے معاملات پر امن مذاکرات اگرچے معطل  ہیں لیکن اس ہفتے بھارتی وزیراعظم  نے پاکستان کو غیر مشروط مذاکرات کی پیش کش کی تھی جس کا اسلام آباد نے خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بھی اس کا مثبت جواب دے گا۔