لندن کی جموں کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق نے پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیرکی کشمیری قیادت اور حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں میں منقسم علاقے کے عوام کےحق خود ارادیت کے اصل سے پسپائی اختیار کر رکھی ہے۔
جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں اقوام متحدہ میں مشاورتی حیثیت رکھنے والی اس غیر سرکاری تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہا کہ اقوام متحدہ نے منقسم کشمیر کے عوام سے حق خود اردیت یعنی انہیں اپنے مستقبل کے تعین کا اختیار دینے کا وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے بقول دونوں اطراف کشمیری قیادت اور پاکستانی رہنماوں کو چاہیئے کے وہ موثر انداز میں اس اصول کا دفاع کریں۔
تنظیم کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اگر باضابطہ یا پس پردہ مذاکرات ہوں تو یہ خوش آئند ہیں تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے کوئی ایسا سیاسی طرز عمل نہیں اپنایا جانا چاہیئے جو غیر جمہوری اور غیرشفاف ہو۔
دریں اثنا پاکستانی کشمیر کے سابق صدر اور حکمران مسلم کانفرنس کے سینئر رہنما سردار عبدالقیوم نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں تنظیم کی طرف سے عائد کردہ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان الزامات کا مقصد محض غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری رہنما مکمل طور پر حق خود ارادیت کے اس اصول پر قائم ہیں جس کی وضاحت اقوام متحدہ نے کی ہے اسے کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے بقول اس سلسلے میں الزامات لگانے والے حق خود ارادیت کی اپنے الفاظ میں تشریح کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ اصل تشریح صرف وہی ہے جو اقوام متحدہ نے کی ہے۔
ڈاکٹر نذیر کے الزام سے قطعہ نظر پاکستانی حکومت کی واضح پالیسی رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا وہی حل قابل قبول ہوگا جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔
خیال رہے کہ گذشتہ سال ہونے والے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت دوسرے معاملات پر امن مذاکرات اگرچے معطل ہیں لیکن اس ہفتے بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کو غیر مشروط مذاکرات کی پیش کش کی تھی جس کا اسلام آباد نے خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بھی اس کا مثبت جواب دے گا۔