اس ہفتے اسلام آباد میں ”مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور امریکہ کی پالیسی “کے موضوع پر ایک مذاکراہ ہو ا جس کا اہتمام Pakistan Institute for Peace Studiesنے کیاتھا ۔اس موقع پر پاکستانی مبصرین کا کہناتھا کہ مسئلہ کشمیر کے دیرینہ تنازعے کے حل میں امریکہ کی طرف سے ملکی کردار کی توقع نہیں کرنی چاہیے بلکہ پاکستان اور بھارت کو خود اس کے تفصیے کے لیے راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔
دفاعی اور سفارتی امور کے ماہر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود نے کہا کہ صدر اوباما نے اگرچہ اپنے انتخاب سے پہلے تنازعہ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انھیں اندازہ ہو ا کہ اس حوالے سے عملی اقدامات اٹھانا آسان نہیں ہو گا۔ طلعت مسعود کی رائے میں اب امریکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں فوری طور پر کوئی قابل ذکر کردارادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو بحر حال اپنے امن مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے کیونکہ یہ محاذآرائی یا جنگ سے بہت بہتر ہے اور دونوں ہی ملکوں کے مفاد میں ہے ۔
یورپ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں یورپی اقوام کی تشویش یا دلچسپی صرف بھارتی کشمیر میں طلعت مسعود کے بقول ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں تک محدود ہے۔
خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں امریکہ سے کسی کردار کی توقع اس لیے نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ بھارت پر پابندیاں عائدکر کے یا کسی بھی اور طریقے سے دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے کسی فوری حل کی توقع کرنا بھی غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہو گی ان کی رائے میں اس کے تصفیے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں کیونکہ یہ نہایت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سے تعلق رکھنے والے پرویز شاہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر میں کسی امریکی کردار کے وقت پاکستان اور بھارت کو یہ ضرور مدنظر رکھنا چاہیے کہ تنازعے کو عالمی قوانین اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے کیا جائے۔
مقررین کے اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل میں ایک موٴثر کردارتب ہی ادا کرسکتا ہے جب اس کے اپنے یہاں سیاسی اور اقتصادی استحکام ہواور امن و امان کی صورت حال تسلی بخش ہو۔
مقررین نے اس بات پر زور بھی دیا کہ منقسم کشمیر کے عوام کے درمیان زیادہ سے زیادہ رابطہ اور اشتراک بڑھایا جانا چاہیے کیونکہ یہ باہمی اعتماد سازی کے لیے نہایت ضروری ہے۔