کچھ عرصے سے کراچی میں سیاسی ماحول میں کشیدگی ہے اور تشدد کے واقعات میں جانیں ضائع ہو رہی ہیں
کچھ عرصے سے کراچی میں سیاسی ماحول میں کشیدگی ہے اور تشدد کے واقعات میں جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کر رہی ہیں۔
گذشتہ دو روز سے ٹارگٹ کلنگ میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد حسین صدیقی کئی ایک وجوہات کو موجودہ صورتِ حال کا ذمے دار قرار دیتے ہیں۔ اُن کے خیال میں تشدد کے خلاف جاری جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی غربت، بیروزگاری، مایوسی اور بد دلی کا عنصر ہے۔ ‘پھر یہ کہ مختلف غیر ملکی ایجنٹ سرگرم ہیں، سیاسی مفادات کے علاوہ اتحادی حکومت کی پوزیشن کمزور ہے۔ تمام چیزوں نے مل کر نسلی اور لسانی فصادات کا روپ دھارا ہے ، جب کہ مایوسی اور بددلی عام ہے۔’
شاہد صدیقی کے مطابق ملک بھر سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں، اِس لیے اگر اقتصادی سطح پر صورتِ حال کو بہتر بنایا جائے تو بے چینی اور انتشار کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ‘اگر یہاں کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں اور لوگوں کو روزگار ملتا رہے تو اُن کے پاس لڑنے جھگڑنے کے لیے وقت ہی نہیں ہوگا، وگرنہ لسانی مسائل سر اُٹھاتے رہیں گے۔’
اُن کے خیال میں معیشت کی بحالی سے یہ معاملات درست ہو جائیں گے۔ لیکن اُن کے بقول، ایک بار تشدد کے خلاف جنگ تھم جائے اور کچھ سرمایہ کاری شروع ہو تو شہر کی صورتِ حال میں کافی بہتری آئے گی۔
ڈاکٹر مہدی حسن کا خیال ہے کہ سوات میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں بے گھر ہو کر آنے والے لوگوں کی آمد اور کراچی میں فرقہ وارانہ کشیدگی بھی تشدد کے واقعات کو ہوا دینے کا باعث ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ متحدہ قومی موومنٹ کی ٕمخالفت کے باوجود سوات اور مالاکنڈ ڈویژن سے بے گھر ہونے والے لوگ کراچی آئے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے خیال میں جو لوگ کراچی آتے ہیں پھر واپس نہیں جاتے۔ ‘متحدہ کو خدشہ ہے کہ اگر یہ لوگ مستقل یہاں آباد ہوگئے تو اس سے یقیناًٍ آبادی کا توازن متحدہ کے خلاف جائے گا جو اُسے قابلِ قبول نہیں۔’
پروفیسر مہدی حسن نے پولیس کی طرف سے تشدد کے واقعات کو سیاسی جماعتوں کے اختلافات اور گینگ وار کا نتیجہ قرار دیا۔ اُن کے الفاظ میں ‘جہاں تک پولیس کا یہ کہنا ہے کہ گینگ وار ہے، یہ ٹھیک ہے کیونکہ اتنا بڑا شہر ہے اور نظم و نسق کی جو صورتِ حال ہے اُس میں جرائم پیشہ افراد کی حرکات، قبضہ گروپ، اسمگلر سرگرم ہو سکتے ہیں، پھر اغوا برائے تاوان کرنے والے عناصر بھی ہیں۔ پھر یہ کہ طاقت کے ذریعے دن دہاڑے ڈاکہ زنی کرنے والے لوگ بھی اِس میں شامل ہیں۔’
متحدہ قومی موومنٹ کے حیدر عباس رضوی نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے بارے میں کہا کہ یہ شہر کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔ اُن کے بقول، اِس وقت شہر میں ہر سیاسی پارٹی کا کارکن ہدف بن رہا ہے۔ اُن کے بقول، ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ایک بار پھر کوشش ہو رہی ہے کہ پاکستان کے صنعتی مرکز کو غیر مستحکم کیا جائے۔’
اُنھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہمیشہ صورتِ حال کو بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ مسئلے کی چھان بین کرے۔ ‘جہاں تک ایم کیو ایم کا سوال ہے، ہم نے سنی تحریک اور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ معاملات کو ٹھیک کرنےکی کوشش کی ہے۔’
حیدر عباس رضوی نے امن کے فروغ کے لیے سیاسی جماعتوں کی مشترکہ کوششوں پر زور دیا اور اپنی جماعت کی طرف سے ایسی کاوشوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے حکومتی کنٹرول پر تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی جماعت کا کارکن مارا جاتا ہے تو پہلا شک اُس کے مخالفین پر جاتا ہے، جس بارے میں خاطر خواہ چھان بین ہونی چاہیئے تاکہ ذمے داروں کا پتا لگ سکے۔
اُنھوں نے پولیس کی کارکردگی اور انتظامیہ کی طرف سے صورتِ حال سے نمٹنے کی کوششوں پر بے اطمینانی کا اظہار کیا۔
دریں اثنا ،کراچی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے تازہ ترین واقعات کی وجہ لسانیت یا سیاسی نہیں بلکہ یہ متحدہ قومی مومنٹ اور اسکے مخالف دھڑے مہاجر قومی مومنٹ حقیقی کی آپس کی دشمنی کا نتیجہ ہے ۔ ایک بیان میں وسیم احمد نے کہا کہ کراچی میں امن وامان قائم کرنا اور”ٹارگٹ کلنگ“ کے واقعات کو روکنااکیلے پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہر کی بڑی سیاسی پارٹیاں بشمول متحدہ قومی مومنٹ اور ایم کیو ایم حقیقی گروپ سب کو مل کر صورت حال کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔