پشاور میں گزشتہ روز ہونے والے زبردست بم دھماکے کو جہاں امریکی اور پاکستانی میڈیا امریکی وزیر خارجہ کے لئے ایک اہم پیغام قرار دے رہا ہے وہاں امریکی وزیر خارجہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں امریکی تعاون کے وعدوں کے ساتھ ٹاون ہال انداز کی میٹنگز کے ذریعے پاکستانی عوام سے رابطے بڑھا رہی ہیں ۔واشنگٹن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیلری کلنٹن امریکی حکومت کی جانب سے پاکستانی عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش کر نے کے لئے بہترین شخصیت ہیں کیونکہ وہ تین ماہ قبل امریکہ کی پاکستانی پالیسی میں خامیوں کا اعتراف کر چکی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے دورہ پاکستان کا آغاز پشاور کے ایک مصروف بازار میں ہونے والے دھماکے سےہوا۔یہ دھماکہ جس میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد سو کا ہندسہ عبور کرچکی ہے اس سال پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں بد ترین قرار دیا جا رہا ہے ۔امریکی ماہرین اس سمیت دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کو حکومت کی ناکامی قرار دینے سے گریز کر رہے ہیں۔
ہیری ٹیج فاؤنڈیشن کی تجزیہ کار لیزا کرٹس کہتی ہیں کہ میں نہیں سمجھتی کہ یہ پاکستانی حکومت کی ناکامی ہے ،اگر آپ پشاور میں ہونےو الے بم دھماکے کی بات کریں جس میں بچوں اور عورتوں سمیت ایک سو کے قریب جانیں ضائع ہوئیں تویہ حکومت اور پاکستانی عوام کو مل کر سوچنا ہے کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کیسے کریں۔اس کے لئے پاکستانی فوج کو سویلین قیادت سے تعاون کرنا ہوگا ۔بے شک پاک فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جو دہشت گردوں سے نمٹ سکتا ہے اور وہ جنوبی وزیرستان میں اسی کوشش میں مصروف ہیں مگر یہ پاکستان کی سیاسی قیادت کا کام ہے کہ پاکستانی عوام کو دہشت گردی کی لعنت کے خلاف متحد کرے ۔مگر میرے خیال میں امریکہ کو الزام دینے سے کسی کی مدد نہیں ہو رہی ۔باوجود اس کے کہ امریکہ نے پاکستان کے لئے جو پالیسی اپنا رکھی تھی وہ خامیوں سے پاک نہیں تھی اور خود سیکرٹری کلنٹن نے تین ماہ پہلے اسی بات کا اعتراف کیا تھا ۔جسے پاکستانیوں نے سراہا بھی تھا۔
پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں تعاون ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بڑھانے اور جنوبی وزیرستان کے بے گھروں کے لئے امدادی رقوم کے وعدے،مگر اس کے ساتھ ساتھ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے پاکستانی عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش اس بار ٹاؤن ہال انداز کی وہ عوامی ملاقاتیں بھی ہیں جو وہ لاہور اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں طلباء سے کر رہی ہیں۔
امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے انداز سفارتکاری میں جو تبدیلی لارہا ہے ، اس بارے میں لیزا کرٹس کا کہناتھا کہ سیکرٹری کلنٹن کا یہ دورہ پاکستان سابق امریکی سفارتکاروں کے دوروں سے بہت مختلف ہے کیونکہ پہلے دوروں میں سینئیر امریکی عہدے دار خاموشی سے پاکستانی حکومت سے ملاقات کرتے تھے مگر سیکرٹری کلنٹن کا دورہ عوامی سفارتکاری کی کوشش ہے اور یہ بتانے کی کوشش ہے کہ امریکہ پاکستان سے کسی وقتی مفاد یا صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے ہی تعاون نہیں کر رہا بلکہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات طویل مدتی بنیادوں پر استوار کئے جا رہے ہیں ۔میرے خیال ہیلری کلنٹن پاکستانیوں کو دوستی کا پیغام دینے کے لئے بہترین امریکی شخصیت ہیں ۔کیونکہ وہ چند ماہ پہلے یہ اعتراف کر چکی ہیں کہ ماضی میں امریکہ کی پاکستان پالیسی میں کئی خامیاں تھیں۔
پاک افغان سرحد کے ساتھ واقع جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج کا آپریشن جاری ہے اور فریقین کی جانب سے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے بھی ۔ کرٹس کہتی ہیں کہ میرے خیال میں پاکستانی فوج نے سوات آپریشن سے کئی سبق سیکھے ہیں مگر جنوبی وزیرستان سوات کے مقابلے میں کہیں مشکل میدان جنگ ہے ۔وہ ایسا قبائلی علاقہ ہے جوکبھی حکومت کے مکمل کنٹرول میں نہیں رہا جہاں القاعدہ ،پنجابی طالبان اور دیگر جنگجو گروپ مل کر کام کر رہے ہیں تو اس آپریشن میں کامیابی سوات آپریشن سے زیادہ مشکل ہوگی ۔مگر اب تک پاکستانی فوج کی کارکردگی اطمنیان بخش دکھائی دے رہی ہے۔
مگر امریکہ کی مشکلات میں اضافہ پاکستان کی سرحد کے ادھر ہی نہیں ادھر بھی جاری ہے ۔ کیا حزب اختلاف کا دباو اور صدر اوباما کی کم ہوتی مقبولیت امریکہ کی افغان پالیسی میں تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے ؟وہ کہتی ہیں کہ جتنا اس موضوع پر بحث طول پکڑے گی اتنا ہی امریکہ کے بارے کے بارے میں ایک منتشر طاقت کا تاثر ابھرے گا ،میرے خیال میں اس سے ہمارے نیٹو اتحادی اور پاکستان اور افغانستان دونوں اتحادی ملک کنفیوز ہو رہے ہیں ، ،صدر حامد کرزائی نے نومبر سات کو دوبارہ صدارتی انتخاب کرانے کا عندیہ دے کر اوباما انتظامیہ کے لئے آسان بنا دیا ہے کہ وہ جنرل میکرسٹل کے مشوروں کی روشنی میں افغانستان کے لئے کسی پالیسی کا اعلان کریں ۔میرے خیال میں زمینی حقائق سے نمٹنا زیادہ ضروری ہے بہ نسبت اس کے کہ افغانستان کے بارے میں واشنگٹن کی سیاسی محاذ آرائی میں لپٹی بحث کو طول دیا جائے۔
لیزا کرٹس کہتی ہیں کہ افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کے مخالفت کرنے والے کسی متبادل منصوبے کو پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں ۔اس لئے اوباما انتظامیہ کو افغانستان میں مزید امریکی فوج بھیجنے کے معاملے پر ایک واضح قائدانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔