پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے جس میں ہر سال 30لاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری عہدے داروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح ستر کی دہائی میں 3.6 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر اگرچہ 1.8فیصد پر آچکی ہے لیکن ان کے مطابق یہ اب بھی تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔
بڑھتی ہوئی اس آبادی پر قابو پانے کے لیے جہاں حکومت دوسرے بہت سے اقدامات کر رہی ہے وہیں گذشتہ دنوں پارلیمان میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ بچوں پر ٹیکس عائد کر کے چھوٹے خاندان کے رواج کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
اس تجویز پر مذہبی حلقوں کی طرف سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا بعض علما نے اسے صریحاََ غیر اسلامی قرار دیا تو بعض نے کہا کہ یہ ٹیکس صرف صاحبِ حیثیت افراد پر عائد کیا جائے اور غریب طبقے کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
ناقدین کی رائے میں بچوں پر کسی بھی قسم کا ٹیکس لگانا بلاجواز ہو گا اور یہ مہنگائی کے ہاتھوں پریشان لوگوں یا وہ لوگ جو اسقاطِ حمل کے طریقوں کے بارے میں شعور نہیں رکھتے انھیں مزید مشکلات میں ڈال دے گا۔
وزارتِ بہبودِ آبادی کی طرف سے اگرچہ ابھی باقاعدہ طور پر ایسے کسی منصوبے پر غور نہیں کیا جارہا ہے تاہم وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اگر ارکان پارلیمان کی طرف سے بچوں پر ٹیکس عائد کر نے کی منظوری دی گئی تو حکومت ان کے بقول اس فیصلے پر لبیک کہے گی۔
اس ہفتے ایک نیوز کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا کہ ارکان کی طرف سے پارلیمان میں اس تجویز پر بحث کی جائے جو مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے ریاض فتیانہ نے حال ہی میں ایوان میں پیش کی تھی۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت بچوں پر ٹیکس کی صورت میں عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی لیکن اگر 16کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں نے ہی اس کی منطوری دے دی تو وزارتِ بہبود آبادی اسے مسترد نہیں کر سکتی۔
وائس آف امریکہ سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بچوں پر ٹیکس لگانے کو کبھی بھی عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہو گی اور اسے سیاسی اور سماجی سطح پر کئی رکاوٹوں اور مخالفت کا سامنا ہو گا۔ ان کی رائے میں آبادی پر کنٹرول کے لیے حکومت کو ایسے پروگراموں پر عمل درآمد کرنا ہو گا جو کسی بھی طرح ملکی ثقافت اور مذہبی فلسفے سے متصادم نہ دکھائی دیتے ہوں تب ہی عوام میں انھیں مقبولیت حاصل ہو گی۔
ایک سوال کے جواب میں نیر آغا نے بتایا کہ پاکستان میں ہر ایک منٹ میں آٹھ بچوں کا اضافہ ہو رہا ہے جن میں سے مناسب طبی امداد نہ ملنے کے باعث تین بچے ہلاک ہو جاتے ہیں۔انھوں نے بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اگرچہ 2020ء تک آبادی میں اضافے کی شرح 1.3 فیصدتک کم کرنے کا عزم کر رکھا ہے لیکن اگر موجودہ رفتار سے اس میں اضافہ ہو تا چلاگیا تو اگلے 30سے40 سال میں ملک کی آباد ی دگنی ہو جائے گی۔