امریکہ پاکستان کا اہم تجارتی پارٹنر ہونے کے ساتھ ساتھ بیرونی سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ملک کے مختلف شعبوں خاص طور پر صنعتوں اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے مختلف منصوبوں کی نشاندہی ہو چکی ہے۔
بدھ کو وائس آف امریکی سے انٹرویو میں سرمایہ کاری کے وزیرِ مملکت اور سرمایہ کاری کے چیرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ امریکہ کے محکمہٴ دفاع کے وفد کے دورہٴ پاکستان کا مقصد یہی ہے کہ کس طرح دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات کے باوجود پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کو محفوظ بنایا جائے۔
اُنھوں نے امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کے دورہٴ پاکستان کے بعد یہ وفد دورے پر آیا ہے جو نجی شعبے، کاروباری حضرات اور ایوانِ صنعت کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کر رہا ہے۔
مانڈوی والا کے مطابق امریکی وفد کے دورے کا مقصد پاکستانی لوگوں کے ساتھ رابطے قائم کرنا اور سرمایہ کاری کا جائزہ لینا ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری سے متعلق امریکی محکمہٴ دفاع کا وفد ایسے ممالک کا جائزہ لے رہا ہے جو دہشت گردی کی زد میں ہیں، جیسا کہ عراق، افغانستان اورپاکستان۔ وفد کے مقاصد میں یہ بھی شامل ہے کہ سلامتی کی بنا پر سرمایہ کاری کا عمل نہ رکے، چاہے وہ امریکہ کی طرف سے ہو یا یورپی یونین کی طرف سے۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ وفد خود تجارت میں ملوث نہیں، لیکن اپنے ساتھ سرمایہ کار لاتا ہے۔
عسکریت پسندی اور تشدد کے واقعات نے جہاں معاشرے کے دوسرے طبقوں کو متاثر کیا ہے وہیں اُن سے صنعتکاروں اور تاجروں کے لیے بھی بہت سی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔
اِس بارے میں صوبہٴ سرحد سے تعلق رکھنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے سنیٹر الیاس بلور نے بتایا: ‘ اِس وقت صوبہ تباہی کے دہانے پر ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا گھروں سے نکلنا محال ہے۔ جو کاروبار کر رہے ہیں وہ دراصل جہاد کر رہے ہیں۔ ’
اُن کے الفاظ میں: ‘رات دِن لوگ خطرے کی حالت میں ہیں۔ دوکانیں بند تو نہیں لیکن گاہک گھر سے باہر ہی نہیں نکلتا۔ ساری صنعت بند ہے۔ ’
پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری کا معاہدہ ایک طویل عرصے سے التوا میں پڑا ہوا ہے۔ سلیم مانڈوی والا کے مطابق دہشت گردی کا خطرہ گرچہ بیرونی سرمایہ کاری میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ہے لیکن وہ پُرامید ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی اتحادی امریکہ اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری کا معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔