پاکستان میں کچھ عرصہ قبل تک ایڈز کے بارے عوامی سطح پر بات نہ ہونے کی وجہ سے اکثریت اس بیماری اور اس کی علامات سے لا علم تھی لیکن اب صورتِ حال میں تبدیلی آرہی ہے اور اس کی وجہ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر لوگوں کو اس مرض سے آگاہ کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف پروگراموں کا انعقاد ہے۔
انھی کوششوں کوآگے بڑھانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے UNFPA (اقوام متحدہ فنڈ برائے آبادی ) نے کراچی میں تین رو زہ ورکشاپ کا انعقاد کیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت، نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اور این جی اوز کے تعاون سے یہ ورکشاپ خواتین سیکس ورکرزکو ان کے حقوق کا شعور دینا اور یہ بتانا ہے کہ وہ کس طرح بہتر طریقے سے ایچ آئی وی کے بچاؤ اور روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر صفدر کمال پاشا UNFPA کے ایچ آئی وی ایڈز پروگرام کے پراجیکٹ آفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ایک لاکھ خواتین سیکس ورکرز ہیں جب کہ اس کی روک تھام کے لیے صرف تین ادارے کام کر رہے ہیں جو ناکافی ہیں۔
پاکستان میں ایڈز اور ایچ آئی وی کی تشخیص 1980ء کے اواخر میں ہوئی اور یہ بیماری ان مردوں میں زیادہ پائی گئی جو بیرون ملک کام کر چکے تھے۔ UNFPA کے مطابق اگر چہ بہت سے لوگ جنسی ملاپ کے ذریعے اس سے متاثر ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں اب یہ بیماری نشہ کرنے والوں میں تیزی سے سامنے آ رہی ہے۔ صرف کراچی میں منشیات استعمال کرنے والے افراد میں اس بیماری کے پھیلنے کا تناسب 26 فیصد ہے۔
حالیہ جائزے کے مطابق خواجہ سراؤں میں اس کے پھیلاؤ کی شرح 6.4 فیصد، مرد سیکس ورکرز میں 0.9 فیصد جب کہ خواتین سیکس ورکرز میں یہ شرح دونوں سے کم ہے۔
ڈاکٹر پاشا کہتے ہیں کہ خواتین کے لیے یہ ورکشاپ منعقد کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ابھی یہ مرض ان میں بڑھا نہیں اس لیے اگر ابھی انہیں شعور دے دیا جائے تو اس کی سطح کم ہی رہے گی اور وہ اس وبا کی روک تھام میں موثر کردار ادا کر سکیں گی۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت 96 ہزار افراد ایڈز سے متاثر ہیں اور پچھلے کچھ سالوں میں اس کا پھیلاؤ پانچ فیصد سے بڑھ چکا ہے۔ ادارے کی سینئر نیشنل پروگرام آفیسر ڈاکٹر سمیعہ ہاشم کا کہنا ہے کہ”میں سمجھتی ہوں کے پاکستان میں یہ مرض بڑھ نہیں رہا بلکہ سامنے آ رہا ہے۔
پچھلے پانچ سالوں میں حکومت نے ایک وسیع پروگرام شروع کیا ہے اس سے پہلے اعداد و شمار معلوم نہیں تھے۔ ایڈز کے خطرات پورے ملک میں ایک جیسے ہیں۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حالیہ دنوں میں اگر پنجاب میں واقعات سامنے آئے تو وہاں زیادہ ہے، میں یہ کہوں گی کہ یہ بیماری ابھی بڑھی نہیں بلکہ ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ یہاں یہاں یہ مرض موجود ہے۔“
وہ کہتی ہیں کہ ایک وقت تھا کہ پاکستان میں لوگ اس پر بات کرنے سے کتراتے تھے لیکن اب ذرائعِ ابلاغ کے کردار کی وجہ سے مثبت تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں اور ایڈز سے بچاؤ اور روک تھام کا پیغام پورے ملک میں پھیل رہا ہے۔