
افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے جنوبی وزیر ستان میں جمعہ کے روز بغیر پائلٹ کے مبینہ امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں مشتبہ غیر ملکی جنگجوؤں سمیت کم از کم 11افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ملی ہیں ۔مقامی قبائل کا کہنا ہے کہ سروکئی کے علاقے میں حملے کا نشانہ طالبان کمانڈر مفتی نور ولی کا ایک مدرسہ اور اُس سے ملحقہ عسکریت پسندوں کا مشتبہ تربیتی مرکزتھا۔ قبائلی ذرائع کے مطابق ڈرون طیارے سے تین میزائل داغے گئے جن میں سے دو اپنے ہدف پر لگے۔ اس حملے میں 30 زائدافراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان کا یہ علاقہ پاکستانی حکومت کو انتہائی مطلوب تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کا ایک مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت ہو ا ہے جب حکومت کی طرف سے بیت اللہ محسود کے خلاف بھرپورفوجی کارروائی کے اعلان کے بعد گذشتہ تقریباً تین ہفتوں سے ”راہ نجات“ کے نام سے فوج نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں اپنی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور جیٹ طیاروں اور توپوں سے طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ اطلاعات کے مطابق زمینی فوج بھی ان علاقوں میں اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں جنوبی وزیر ستان میں طالبان جنگجوؤں کے مشتبہ ٹھکانوں پر مبینہ امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق رواں سال کے دوران اب قبائلی علاقوں میں 20 سے زائد ایسے حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں بیسوں شدت پسند بھی شامل ہیں۔