ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

خبریں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

محمد عامر کا عالمی ریکارڈ پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکا

Pakistan's Muhammad Amir about to bowl during their third one-day international cricket match against New Zealand in Abu Dhabi, UAE, Monday Nov. 9, 2009.

محمد عامر جنھوں نے اپنی عمدہ فاسٹ باؤلنگ سے ٹیم میں مستقل جگہ بنا لی ہے۔ اب وہ آل راؤنڈر کے روپ میں سامنے آ رہے ہیں

شیئر کیجیئے

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ابوظہبی میں کھیلے گئے تیسرے ایک روزہ میچ میں نیوزی لینڈ نے سنسی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو سات رنز سے ہرا کر تین میچوں کی سیریز دو ایک سے جیت لی۔

محمد عامر 73 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، جو دسویں وکٹ پر کھیلتے ہوئے کسی بھی بلے باز کا سب سے بڑا سکور ہے۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ زمبابوے کے میری لیئر کے پاس تھا جنھوں نے بھارت کے خلاف 56 رنز بنائے تھے۔

دسویں وکٹ کی شراکت میں محمد عامر اور سعید اجمل نے 103 رنز سکور کیے۔ ایک موقعے پر میچ پاکستان کی گرفت میں آ گیا تھا اور آخری اوور میں جیت کے لیے صرف آٹھ رنز درکار تھے۔ لیکن اس موقعے پر سعید اجمل کی اونچی شاٹ فیلڈر کے ہاتھ میں چلی گئی اور پاکستان سات رنز سے میچ ہار گیا۔

میچ کی خاص بات پاکستانی نوجوان فاسٹ باؤلر محمد عامر کی دلیرانہ اننگز تھی، جس میں انھوں نے عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ایک موقعے پر پاکستان کے نو کھلاڑی صرف 101 رنز بنا کر آؤٹ ہو چکے تھے، اور ایک بڑی شکست پاکستان کا مقدر لگ رہی تھی، لیکن پاکستان کے ہونہار فاسٹ باؤلر اور سپنر سعید اجمل نے جس احساسِ ذمہ داری سے دلیری سے آخری وکٹ کی شراکت میں کھیل پیش کیا وہ پاکستان کے قدآور بلے بازوں کے لیے لمحہٴ فکریہ ہے۔

نیوزی لینڈ کے کپتان ڈینئل وٹوری نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ اننگز کے 35ویں اوور تک نیوزی لینڈ کی گرفت مضبوط تھی، جب اس نے پانچ وکٹ کھو کر 187 رنز بنا لیے تھے۔  لیکن اس کے بعد پاکستان گیند باز حاوی نظر آئے، خاص طور پر سپنر سعید اجمل نے شان دار باؤلنگ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو بڑا سکور کھڑا کرنے کا موقع نہیں دیا اور ان کی پوری ٹیم 47ویں اوور میں 211 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ برینڈ میک کلم ایک بار پھر ٹاپ سکورر رہے اور انھوں نے تین چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے 76 رنز بنائے۔

سعید اجمل نے 33 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں، جب کہ محمد عامر نے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

جواب میں پاکستان ٹیم کی ناقص کارکردگی ان شکوک کو شہ دیتی رہی کہ ٹیم دھڑے بندی کا شکار ہے۔  کسی بھی اہم بلے باز نے ذمے داری کا مظاہرہ کرنا گوارا نہیں کیا اور عمدہ اوپننگ سٹینڈ کے باوجود ٹیم کا مڈل آرڈر تاش کے پتوں کی مانند بکھر گیا۔

سلمان بٹ اور خالد لطیف نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 47 رنز جوڑے، لیکن ان دونوں کے آؤٹ ہونے کے بعد یونس خان 3، شعیب ملک 11، عمر اکمل 12، شاہد آفریدی 5 رنز اور کامران اکمل 4 بنا سکے، جب کہ عبدالرزاق نے سکورز کو زحمت نہیں دی۔

محمد عامر کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ انھوں نے اپنے عالمی ریکارڈ کے بارے کہا کہ انھیں خوشی تو ضرور ہوئی ہے لیکن زیادہ خوشی اس وقت ہوتی جب ٹیم جیت جاتی۔ انھوں نے کہا کہ میچ کے آخری اووروں میں دونوں کھلاڑیوں نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ سنگل رنز ہی لیے جائیں اور بڑی ہٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن شدید دباؤ کی وجہ سے سعید اجمل آؤٹ ہو گئے۔

اس شکست پر پاکستان ٹیم کے شائقین میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے اور وہ یونس خان کی کپتانی کی صلاحیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
 

رائے اور تبصرہ (8)

10-11-2009 Asif (Pakistan)

یونس خان کی ون ڈے ٹیم میں جگہ نہیں بنتی۔ اگر کوئی کپتان خود پرفارم نہیں کرتا تو دوسروں سے کیا پرفارمنس لے گا۔

10-11-2009 abdul wajid (pakistan)

یونس خان کو کپتانی چھوڑ دینی چاہیئے۔

10-11-2009 Kashif Abbas (Sharjah)

میرے خیال سے کسی بھی سینیر کھلاڑی کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی، خاص طور پر کپتان کو ٹیم سے نکال باہر کر دینا چاہیئے۔ مجھے نئے ٹیلنٹ پر پورا بھروسا ہے۔ عامر اور اجمل باؤلنگ اچھی کر رہے تھے اب انھوں نے اچھی بیٹنگ بھی شروع کر دی ہے۔

10-11-2009 Asad shehzad Khan (Pakistan)

یونس خان بہت اچھے کپتان ہیں لیکن انھیں ٹیم میں تبدیلیاں لانی چاہیئے۔

10-11-2009 نادر پنجوال (امریکہ)

اس سیریز میں یونس خان کے کئی فیصلے ایسے ہیں جن کی وجہ سے وہ ایک کم تجربہ کار کپتان دکھائی دیے۔ میرے خیال میں وہ عمر اکمل کے ٹیلنٹ کو ضائع کر رہے ہیں۔ لیکن اگر یونس خان کی جگہ شاہد آفریدی لیں گے تو بہتر ہو گا کہ یونس خان کو ہی موقع دیا جائے۔ اگر بلے بازوں میں مقابلے کی صورتِ حال پیدا کرنی ہے تو نام نہاد بڑے بلے بازوں کو کچھ میچوں میں ڈرسنگ روم کے اندر ہی بٹھایا جائے تو مناسب ہوگا۔

10-11-2009 saifullah (pakistan)

کرکٹ میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ اگر یہ میچ پاکستان جیت جاتا تو سب کہتے کہ یونس خان اچھا کپتان ہے۔ سوچ ہمیشہ مثبت رکھی چاہیے۔

11-11-2009 Dr. Shaffee Niazi (KM Mianwali)

پاکستانی ٹیم میں یونس خان کی گنجائش نہیں ہے۔ اب انھیں میدان چھوڑ دینا چاہیئے۔

11-11-2009 NAEEMUDDIN QURESHI (PAKISTAN)

پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی انفرادی طور پر تو اچھا کھیلتے ہیں، لیکن ٹیم مینجمنٹ نظر نہیں آتی۔ شاید دوسروں کو آسان لیتے ہیں۔ ویل ڈن محمد عامر۔ تو نے پاکستان کا نام رکھ لیا۔

اپنی رائے ارسال کیجئے

* لازمی



آپ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپ کے تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ممکن ہے اسے شائع نہ کیا جائے۔ وی او اے آپ کے تبصرے کو دنیا بھر میں نشر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ استعمال اور پرائیویسی نوٹس