ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 21 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

خبریں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

سکیورٹی خدشات کے باوجود فیشن پاکستان ویک کا کامیاب انعقاد

شیئر کیجیئے

کراچی میں جاری سکیورٹی خدشات میں گھرا چار روزہ ”فیشن پاکستان ویک “ ہفتے کو اختتام پذیر ہو رہا ہے ۔ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی فوج جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں سے نبرد آزما ہے اس فیشن ویک کو جہاں مقامی ذرائع ابلاغ میں نمایاں کووریج ملی وہاں غیر ملکی اخبارات میں بھی اس کا چرچا رہا اور بیشتر اخبارات نے اس کے لیے طالبان کے زیر ِ سایہ ہونے والے فیشن ویک کی اصطلاح استعمال کی ۔

رنگ روشنی اور گیتوں سے مزین اس فیشن ویک میں پاکستان کی فیشن انڈسٹری کے 32 ڈیزائنرز نے اپنے ملبوسات پیش کیے جبکہ 20 سے زائد ماڈلز نے کیٹ واک کی اور مغربی اور مشرقی ملبوسات زیب تن کیے ۔ یہ کتنا کامیاب رہا اس سلسلے میں فیشن پاکستان کی چیف آرگنائزر عائشہ ٹیمی حق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ” فیشن ویک بہت اچھا رہا اور بہت ہی کامیاب۔ ہمارے ڈیزائنرز نے اپنے ملبوسات دکھائے اور پوری دنیا نے اب ان کو دیکھ لیا ہے۔میں تو اتنی خوش ہوں کہ پاکستان کا نام روشن ہوا ہے۔“

وہ کہتی ہیں کہ فیشن ویک انڈسٹری کا ایک حصہ ہے ۔ اس کے انعقاد کا مقصد جہاں پاکستان کی فیشن انڈسٹری کو دنیا کے سامنے لانا تھا وہاں پاکستان میں لوگوں کے ذہنوں کو تیار کرنا بھی تھا کہ ”اس کو تفریحی صنعت کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ یہ ایک بہت سنجیدہ اور منافع بخش صنعت ہے اورمیں اسے کمانے والی صنعت دیکھنا چاہتی ہوں کہ ہم بین الاقوامی ایکسپورٹ مارکیٹ میں جائیں اور پاکستان میں غیر ملکی زرمبادلہ لے کر آئیں ۔ ابھی لوگ سوٹ کیسز میں اپنے سامان لے کر جاتے ہیں اور نمائشیں کرتے ہیں ۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ اسے سرکاری سرپرستی ملے یہاں سے کنٹینرز بھر کر جائیں اور جو آمدنی آئے وہ اسٹیٹ بینک کے ذریعے آئے ۔ “

فیشن شو میں ہر ڈیزائنر نے مختلف ملبوسات دکھائے اور ان کے کام اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دیکھنے والوں نے سراہا بھی۔ لیکن اکثر حلقے
اس ایونٹ میں شامل کیے گئے بے باک ملبوسات پر تنقید بھی کرتے نظر آئے۔ مگر عائشہ حق اس تنقید کو نظر انداز کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ”
کیا ہوا کہ اگر بولڈ تھے ہمیں تو ملبوسات دنیا کو بیچنا ہے نا ۔ نیویارک کی الگ مارکیٹ ہے لندن کی ا لگ دبئی اور جاپان کی الگ مارکیٹ ہوتی ہے تو ہم نے ہر مارکیٹ کو مدنظر رکھا ہے ۔“

منتظمین کے مطابق اس شو کے تمام تقاضے بین الاقوامی معیار کے مطابق رہے۔ ریمپ سے لے کر کریوگرافی اور ڈیزائنر کے ملبوسات سے لے کر پیش کیے جانے والے تمام شوز فیشن کے عالمی معیار کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیے گئے تھے۔ عائشہ حق نے بتایا کہ ” کافی سارے خریدار آئے تھے او ڈیزائنرز کو ابھی سے ہی آرڈرز ملنا شروع ہو گئے ہیں ۔ بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہماری چھوٹی سی کوشش کا کچھ تو فائدہ اور نتیجہ نکلا ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ پاکستان کے لئے بہت زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

تاہم پاکستان میں جاری امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے کسی غیر ملکی ڈیزائنر نے اس فیشن ویک میں شرکت نہیں کی۔
چیف آرگنائزر عائشہ حق کے بقول ” ان کو ہم نے کہا تھا کہ آپ اس وقت نہ آئیں ۔ایک تو ہم اتنا بڑایونٹ کرنے جارہے ہیں اور پھر ہمیں لوگوں کے ذہنوں کو بدلنا ہے کہ یہ تفریح نہیں ایک سنجیدہ شعبہ ہے اور تیسری بات ایسے میں ہم اتنی بڑی ذمہ داری لیتے کہ ان کو بلالیتے ان کے لیے حفاظتی اقدامات کرتے تو مشکل ہوتی تو ہم نے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے ہیں اور ایک وقت میں ایک کام کیا ہے ۔“

دو بار ملتوی کیا گیا یہ فیشن ویک حفاظتی خدشات کی وجہ سے کئی قیاس آرائیوں کا شکار رہا لیکن بالآخر منتظمین کی کاوشوں سے ملک کے سب سے بڑے شہر اور صنعتی و تجارتی مرکز کراچی کے میریٹ ہوٹل میں اس کا انعقاد ہوا۔ عائشہ حق کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ اور اگر دو تین سال میں ہم نے بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لی تو یہ بہت ہی اچھا ہوگا۔

وہ کہتی ہیں کہ ہم نے یہ فیشن ویک منعقد کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کچھ ہوتا ہے تو کوئی کاروبار بند نہیں ہوتا بلکہ تمام سرگرمیاں جاری رہتی ہیں ۔” ہر جگہ ہر ملک میں یہ مسائل رہے ہیں لیکن انھوں نے تو اپنے ملک کو بند نہیں کیا تھا ۔ ہم کیوں بند کریں ۔ یہ پاکستان کا ایک مثبت پہلو ہے جسے دنیا کے سامنے آنا چائیے۔“