مالاکنڈ ڈویژن میں بے گھر افراد کو ملنے والی عالمی امداد دنیا کے دیگر ممالک کو دی جانے والی امدادی رقوم کے مقابلے میں نسبتًا کم رہی۔ حالانکہ مجموعی طور پر ہنگامی امداد کی عالمی اپیلوں کو باقی سالوں کے مقابلے میں اس سال سب سے زیادہ فنڈز ملے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے امورِ انسانی ہمدردی (OCHA) کی طرف سے جنیوا میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگرچہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی اپیلوں کے جواب میں اوسطًا 49 فیصد امداد ملی ہے لیکن پاکستان میں مالاکنڈ ڈویژن کے بے گھر افراد کے لیے کی گئی اپیل کا اب تک صرف 43 فیصد وصول ہوا ہے۔
مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی آپریشن کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد اس وقت دنیا کے مختلف علاقوں سے بے گھر ہونے والوں میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اقوام متحدہ نے ان کی مدد کے لیے 542 ملین ڈالر کی امداد کی درخواست کر رکھی ہے۔
پاکستان کو ملنے والی امداد کا نصف امریکہ سے وصول ہوا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ امداد کرنے والوں میں جاپان، برطانیہ، آسٹریلیا اور خود اقوامِ متحدہ کا مرکزی ایمرجنسی فنڈ شامل ہیں۔
پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کی ہنگامی امداد کے منتظم وولف گینگ ہربنجر کا کہنا ہے کہ اگرچہ ’خوراک جیسی ضروریات کے لیے امداد موجود ہے لیکن مجھے فکر ہے کہ دیگر اہم ضروریات کے لیے امداد کی بہت کمی ہے۔‘
انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ کیمپوں سے اپنے گھروں کو واپس لوٹنے والوں کو کئی ماہ تک مدد کی ضرورت ہوگی اور اس مد میں وسائل کی شدید کمی ہے۔
’میرے خیال میں عالمی برادری نے اس بحران کی شدت اور گہرائی پر وہ توجہ نہیں دی جس کا یہ حق دار ہے،” مسٹر ہربنجر نے کہا۔
اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق سال کے بقیہ حصے میں بھی دنیا بھر میں غریب ممالک کے حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آتے۔ عالمی معاشی بحران کی وجہ سے لوگوں کے روزگار کو خطرہ ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں تارکینِ وطن کی طرف سے اپنے گھر والوں کو بھیجی جانے والی رقوم میں بھی کمی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اشیائے خورد و نوش اور تیل کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق معاشی بحران کی وجہ سے اس سال کے آخر تک مزید نو کروڑ افراد غربت کی لکیر کو چھونے لگیں گے اور دنیا میں غریبوں کی تعداد ایک ارب ہوجائے گی۔