ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • بدھ, 10 فروری 2010
  • آج وی او اے پر

خبریں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

تسخیر چاند کی چالیسویں سالگرہ

شیئر کیجیئے

اسی بارے میں

20 جولائی کو دنیا بھر میں انسان کے چاند پر اترنے کے تاریخی کارنامے کی  چالیسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے ۔ یہ کارنامہ امریکہ کے National Aeronautics and Space Administration  یعنی ناسا نے انجام دیا تھا۔ اب یہی ادارہ  مریخ کے سفر کے لیئے چاند پر واپس جانے اور اسے ایک اڈے کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔

 

ہر ہفتے ہزاروں لوگ ان راکٹوں اور سازو سامان کو دیکھنے  ہیوسٹن  کے جانسن اسپیس سینٹر میں آتے ہیں جو 1960 کی دہائی میں ناسا کی خلائی مہموں کے لیئے  بنایا گیا تھا۔ بہت سے لوگوں کی نظر میں وہ سنہرا دور تھا جب اپولو کے خلا پیماؤں نے چاند پر چہل قدمی کی۔ لیکن جانسن اسپیس سینٹر کے John Connolly  جو ناسا  کے چاند کے نئے منصوبے پر کا م کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ آنے والا دور اور بھی شاندار ہو گا۔ ان کے الفاظ ہیں’’ناسا میں انجینیروں  اور سائنسدانوں کی ایک نئی نسل چاند پر واپس جانے کو بے چین ہے  تا کہ اپولو کے      خلا پیماؤں نے جو چیزیں دریافت کی تھیں  ان پر کام کرے۔ ہم اب چاند پر واپس جانے اور تحقیق کا کام کرنے کو تیار ہیں۔‘‘

 

ناسا اپنے Constellation Program  میں  نئے طاقتور Ares  راکٹ استعمال کرے گی جن کے انجن ٹیسٹ کیئے جا رہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت دس سال کے اندر امریکی خلا پیما اور سائنسداں چاند پر واپس جائیں گے اور وہاں اڈے قائم کریں گے۔ اس مشن میں پہلے کے مقابلے میں  چاند پر اترنے والی کہیں زیادہ  بڑی گاڑی اور  چاند کی سطح پر چلنے والی گاڑیاں استعمال کی جائیں گی جو خلا پیماؤں اور ان کے ساز و سامان کی نقل و حرکت کے لیئے استعمال کی جائیں گی۔

John Connolly  کہتے ہیں کہ چاند کے قطبین پر برف کی شکل میں پانی  کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں ۔اس کے علاوہ، 40 سال قبل چاند کی سطح سے جو چیزیں  لائی گئی تھیں، ان میں آکسیجن کی موجودگی کا پتہ چلا ہے  جسے شاید شمسی توانائی کے ذریعے  نکالا جا سکے۔’’اگر آپ اپنی ضرورت کی تمام آکسیجن  چاند جیسی جگہ پر   تیار کر  سکیں اور اسے زمین سے نہ لانا پڑے ، تو خلا میں زندہ رہنے کے لیئے جو سامان زمین سے لانا پڑے گا اس میں80 فیصد تک کی کمی ہو جائے گی۔‘‘

 

لیکن ایسے تمام شاندار منصوبے ، خلا میں دلچسپی  رکھنے والوں کے لیئے مایوس کُن ہیں۔  ان لوگوں میں اپالو گیارہ مشن کے خلا پیما، Edwin Buzz Aldrin  بھی شامل ہیں جو چاند پر قدم رکھنے والے دوسرے انسان ہیں۔ انھوں نے اس منصوبے کے بارے میں اپنے شک و شبہے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ہمیں اس مقام تک پہنچنے میں جہاں ہم  40 سال پہلے پہنچ چکے تھے، مزید دس برس لگیں گے۔ انھوں نے کہا کہ شاید  اس کام کو صحیح طریقے سے انجام نہیں دے رہے ہیں۔بعض دوسرے لوگ ناسا کے اِس منصوبے پر تنقید کر رہے ہیں کہ خلائی شٹل کے پروگرام کو اگلے سال ختم کر دیا جائے اور تمام تر کوششیں نئے پروگرام پر مرکوز کی جائیں۔انہیں اندیشہ ہے کہ اگر برسوں تک کوئی بڑا مشن مکمل نہ ہوا، تو ممکن ہے کہ خلا میں لوگوں کی دلچسپی ختم ہو جائے۔ ماہرین یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ ایسے وقت میں جب امریکی حکومت کے بجٹ کا خسارہ  انتہائی اونچی سطح پر پہنچ گیا ہے، ناسا جیسا سرکاری محکمہ اپنا کام کیسے چلائے گا۔

 

رائس یونیورسٹی  میں ٹیکنالوجی کے تجزیہ کار، Chris Bronk اور ہیوسٹن کی Open Teams نامی سافٹ ویئر کمپنی کے Troy Ottis  نے حال ہی میں مشترکہ طور پر ایک اداریہ تحریر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ناسا کو ایک پرائیویٹ کمپنی کے طور پر کام کرنا چاہیئے  جو ایجاد و اختراع کی ماہر ہو۔ Chris Bronk کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ آنے والے برسوں میں  ناسا کو حکومت سے ملنے والے فنڈز میں کمی ہوجائے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ چاند پر انسان بردار خلائی پروازوں ، اور مریخ پر جانے کے اہداف پر غور کریں، تو معلوم ہوگا کہ جو فنڈز فراہم کیئے گئے ہیں، وہ ان مقاصد کے لیئے کافی نہیں ہیں۔ Troy Gattis کہتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ایجاد و اختراع سے کام لیا جائے۔’’اگر حکومت کے بجٹ پر حقیقت پسندی سے نظر ڈالی جائے، تو ناسا کو ان ولولہ انگیز  مقاصد کے حصول کے لیئے ایسی ایجاد و اختراع سے کام لینا ہوگا جس کے ذریعے خلائی سفر کم خرچ، آسان اور تیز ہو جائے۔‘‘

 

ناسا کے عہدے دار کہتے ہیں کہ وہ بجٹ کے مسائل سے آگاہ ہیں۔ John Connolly کہتے ہیں کہ ناسا  کا محکمہ اپنے  ماہرین  اور دنیا بھر کے  سائنسدانوں  کی مدد سے صدر اور امریکی کانگریس  کی طرف سے منظور شدہ پروگراموں کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔