فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ جنوری میں منعقد ہونے والے انتخابات کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن کی فتح پارٹی اپنےمخالف فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ مصالحت کی کوششیں جاری رکھے گی۔
مسٹر عباس نے جمعے کے روز ایک حکم جاری کیا جِس میں مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر 24جنوری کو صدارتی اور پارلیمانی انتخاب کے انعقاد کے لیے کہا گیا ہے۔
حماس کےعہدے داروں نے اِس فیصلے پر نکتہ چینی کی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اعلان مصالحتی کوششوں کو مستقل نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔ حماس نے مسٹر عباس کی صدارت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اُن کی مدت اِسی سال جنوری میں ختم ہو چکی ہے۔
ہفتے کو صدرعباس نے مغربی کنارے کے شہر رملہ میں فلسطینی وفود کے اجلاس کو بتایا کہ وہ جنوری میں ہونے والے انتخابات کے حق میں ہیں۔
اِس سے پہلے رواں ہفتے فلسطینی صدر نے کہا کہ اگر حماس کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ اب بھی انتخابات کی تاریخ میں ردو بدل کا سوچ سکتے ہیں۔
فتح نے مصر کی طرف سے کرائے گئے معاہدے کی پہلےہی منظوری دے دی ہے لیکن حماس نے اِس پر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے میں تاخیر سے کام لیا ہے۔