ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

مشرقِ وسطیٰ RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

زیتون کی کاشت فلسطینیوں کی زندگی میں خوشحالی لارہی ہے

شیئر کیجیئے


امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو جائز تسلیم نہیں کرتا ۔ مشر ق وسطی کے امن عمل پر مصر کے صدر حسنی مبارک سے مذاکرات کے بعد ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہے گا کہ اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر فورا روک دے۔گزشتہ ہفتے  انہوں نے نئی بستیوں کی تعمیر روکنے پر اسرائیل کی آمادگی کو ایک بے مثال رعایت قرار دیا تھا جس پرفلسطینی راہنماوں کی جانب سے زبردست تنقید کی گئی تھی ۔امریکی وزیر خارجہ کا دورہ مشرق وسطٰی ابھی جاری ہےجہاں امن کی بات کواکثر  زیتون کی شاخ سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقے میں زیتون کی پیداوار پرفلسطینی انتظامیہ اپنی معیشت کی بنیاد رکھ سکتی ہے ۔
ٕمغربی کنارے میں واقع  ایک گاؤں محمود سمارا اور ان کے خاندان کے لئے پیسہ واقعی  درختوں پر لگتا ہے ۔یہ خاندان صدیوں سے زیتون اگاتا اور زیتون کی کھیتی کاٹتا آیا ہے مگر حالات جتنے اچھے اب ہیں پہلے کبھی نہیں تھے ۔
 وہ کہتے ہیں کہ ایک کلو زیتون کا تیل جو تین ڈالر سے بھی کم کا ہوا کرتا تھا  ، اب اس کی قیمت سات ڈالر سے بڑھ کرگئی ہے اور ہم کسانوں کی آمدنی تو بہت ہی اچھی ہو گئی ہے ۔
محمود سمارا ایک ایسی کو آپریٹو کمپنی کے حصہ دار ہیں جس نے کسانوں کا منافع بڑھانے کے لئے مڈل مین کا کردار ختم کر دیا ہے۔یہ کوآپریٹو ایک مقامی کمپنی کو زیتون کا تیل فروخت کرتی ہے ۔اس سال اس کمپنی نے چالیس لاکھ ڈالر  مالیت کا اعلی معیار کا فلسطینی زیتون کا تیل اور دیگر خوردنی اشیاء بر آمد کی ہیں جو یورپ اور امریکہ کے بڑے بڑے گروسری سٹورز میں فروخت کی جا رہی ہیں ۔اس کمپنی کے مالک نصر ابو فرح امریکہ سے تعلیم یافتہ ماہر بشریات ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی یہ کوشش فلسطینی معیشت اور فلسطینی عوام کےبارے اچھا تاثر قائم کرنے میں مدد دے گی ۔
نصر ابو فرح  کا کہنا ہے کہ اس زر مبادلہ کے علاوہ جو فلسطینی معیشت کومل رہا ہے ، اس کاروبار سے فلسطینی مصنوعات کے لئے عالمی منڈی کے دروازےکھلیں گےاور دنیا کو فلسطین اور اس میں  رہنے والوں کو ایک نئی روشنی میں دیکھنے کا موقعہ ملے گا ۔یعنی وہ فلسطینی مصنوعات سے فلسطین کو پہچانیں گے ۔
اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے باہر سے چوکیاں  ہٹائے جانے کی وجہ سے ان مصنوعات کی اسرائیلی بندر گاہ تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم سلیم فیاض کہتے ہیں کہ رکاوٹیں ختم کرکے  اور تیزرفتاری سے کام لے کر ہم اس معاشی خود مختاری کو حاصل کر پائیں گے  کیونکہ یہ ہماری استطاعت اور خواہش بھی نہیں ہے کہ ہم غیر ملکی امداد پر اپنا انحصار جاری رکھیں ۔مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لئے ہمارا یہ تصور نہیں ہے ۔
جہاں تک زیتون کا شت کرنے  والے فلسطینی کسانوں کا تعلق ہے تو ان کی معاشی خوشحالی کا اندازہ ان کے نئے مکان اور نئی کاریں دیکھ کر کیا جا سکتا ہے۔ان کے لئے زیتون کے درخت سونا اگل رہے ہیں اور اچھے مستقبل کی امیدیں روشن کر رہے ہیں ۔