ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

مشرقِ وسطیٰ RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

امریکی اور فلسطینی صدور کے ساتھ اسرائیلی صدر کی مشترکہ ملاقات کامیابی ہے: اسرائیل

شیئر کیجیئے


اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہاہےکہ وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی فلسطینی اور امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کامیاب رہی ، کیونکہ یہ  پیشگی شرائط کے بغیر ہوئی۔

ایویڈور لبرمین نے بدھ کے روز اسرائیلی ریڈیو کو بتایا کہ حکومت نے یہ ثابت کردیا ہے وہ  کہ اسے اپنے موقف سے دست برداری یا رعایتیں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

فلسطینی کہہ چکے ہیں کہ وہ اس وقت تک امن مذاکرات میں دوبارہ شرکت نہیں کریں جب تک اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں یہودی خاندانوں کے لیے بستیوں کی تعمیر روک نہیں دیتا۔

واشنگٹن اس موقف کی حمایت کرچکا ہے کہ لیکن منگل کے روز امریکی صدر براک اوباما نے نیویارک میں سربراہی اجلاس کے بعد کہا کہ دونوں فریقوں کو مفاہمت کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔

انہوں نےاسرائیل کو آبادی کاری کا عمل محدود کرنے کے لیے کہا جو تعمیر کو مکمل طورپر روک دینے کے ان کے سابقہ مطالبے میں تبدیلی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل اپنی بستیوں کی تعمیر روک دے۔

اس کے باوجود مسٹر نیتن یاہو نے کہا کہ اس بارے میں ایک عمومی اتفاق رائے موجود ہے کہ امن کے عمل کو پیشگی شرائط کے بغیر جلد از جلد بحال ہونا چاہیئے۔

یہ تین روز سربراہی اجلاس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ضمنی طورپر ہوا۔ مسٹر نیتن یاہو اور مسٹر عباس اجلاس سےپہلے فوٹو گرافروں کے سامنے کھڑے ہوئے  اور بے دلی سے  ایک دوسرے سے ہا تھ ملائے۔

مشرق وسطی ٰ کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیر جارج مچل اگلے ہفتے ایک بار پھر اسرائیلی اور فلسطینی عہدے داروں سے ملاقات کریں گے اور امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن صدر اوباما کو اکتوبر کے وسط میں گفت و شنید کی صورت حال پر بریف کریں گی۔

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں میں تعطل کی وجہ  صرف بستیوں کی تعمیر کا تنازع ہی  نہیں ہے بلکہ دونوں فریقوں کو یروشلم ، فلسطینی پناہ گزینوں اور آئندہ کی فلسطینی ریاست کی سرحدوں کے مستقبل پربھی اتفاق رائے تک پہنچنا ہے۔