صدر براک اوباما مشرق وسطی ٰ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش میں آج منگل کے روز فلسطینی اور اسرائیلی راہنماؤں کے ایک مشترکہ اجلاس کی میزبانی کررہے ہیں۔
تمام فریق اِس اجلاس کے بارے میں توقعات کے اظہار میں محتاط رہے ہیں جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ضمنی طورپر منعقد ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابراٹ گِبز نے پیر کے روز کہا کہ امریکی عہدے دارکسی نمایاں پیش رفت کے امکان کے بارے میں بہت زیادہ توقعات نہیں رکھتے ۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو کے ایک ترجمان نیر حیفٹز نے کہا ہے کہ مسٹر نتن یاہو اسرائیلی بستیوں کی تعمیر روکنے کے امریکہ اور فلسطینوں کے مطالبوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔
سمجھا تاجا تاہے کہ منگل کےاجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباس امن مذاکرات کی بحالی کے لیے بستیوں کی تعمیر کے مسئلے کو ایک اہم شرط کے طورپر رکھیں گے۔
فلسطینی راہنماؤں کا کہنا ہے کہ اِس سرزمین پر جس پر اسرائیل نے 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا، مزید یہودی بستیوں کی تعمیر سے ایک قابل عمل ریاست کی تشکیل کی اُن کی کوششوں اور امن کی کوششوں میں تعطل کا خطرہ ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں یہودی خاندانوں کی قدرتی طور پر بڑھتی ہوئی آبادی کو رہائشی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کچھ تعمیرات ضروری ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے پیر کے روز اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک کےاِس بیان کا حوالہ دیا کہ اُنھیں خدشہ ہے کہ فلسطینی امن کا ایک موقع کھو دیں گے۔
اُن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر واضح طور پر اِس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی اثرو رسوخ کو استعمال کرکے دوسال کے اندر ایک آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل اور اہم امور کے حل کو یقینی بنائیں گے۔بارک نے اس کو ایک ایسا موقع قرار دیا جسے کھویا نہیں جانا چاہیے۔