لبنان کے عسکریت پسند گروپ حزب اللہ نے سختی سے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جن ہتھیاروں کو پکڑا ہے، اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
حزب اللہ نے اپنا تردیدی بیان جمعرات کے روز جاری کیا ۔
بدھ کے روز اسرائیلی کمانڈوز نے سینکڑوں ٹن ہتھیار، جن میں ٹینک شکن میزائل اورگرینیڈ بھی شامل تھے ، لے جانے والے ایک بحری جہاز کو روکا تھا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیارایران سے شام کے راستے حزب اللہ کو بھیجے جارہے تھے۔
ایران اور شام ، دونوں نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔
اسرائیلی نیوی کے کمانڈر رانی بن یہودا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہتھیار عام سامان میں چھپائے گئے تھے ، جن کا پتااس وقت چلا، جب اس بحری جہازکی ، جس پر اینٹی گوا کا پرچم لگا ہواتھا، اسرائیلی بندرگاہ اشدود پر تلاشی لی گئی ۔
بدھ کے روز اسرائیل نے جن ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں لیا ، وہ اسرائیل کی جانب سے اب تک پکڑے جانے والے ہتھیاروں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج 2002 میں 50 ٹن ہتھیار پکڑ چکی ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہیں غزہ کی پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے لیے بھیجا جارہا تھا۔