اسرائیلی پولیس نے نیم فوجی اور گھڑ سوار دستوں کے ساتھ یروشلم کے پرانے شہر میں تقریباً 150 فلسطینوں کے اجتماع پر دھاوا بولا، جنہوں نے ان پر پتھراؤ کیا اور بوتلیں پھینکیں۔ یہ جھڑپ مسجد الاقصیٰ کے پاس ہوئی، جو مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لیے ایک انتہائی مقدس مقام ہے۔
ا س کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب یہ افواہ پھیلی کہ یہودی عسکریت پسند اپنی ہفتہ بھر کی تعطیلات کے موقع پر وہاں عبادت کریں گے۔
اسرائیلی پولیس نے کہا ہےکہ وہ یروشلم میں کسی قسم کی بے چینی اور بدامنی برداشت نہیں کرے گی۔ خاص طورپر ایسے میں جب کہ تہوار منانے کے لیے وہاں یہودیوں اور مسیحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی نے اس صورت حال پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ فلسطینی عہدے دارامیر حامد کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال بے حد خطرناک ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکومت فلسطینی عوام کو مشتعل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کا یہ بیان اسرائیلی ریڈیو سے نشر ہوا۔
مسجد الاقصیٰ، مشرق وسطیٰ کے تنازع کا مرکزی نکتہ ہے۔ فلسطینیوں کی دوسری بغاوت 2000 میں وہیں شروع ہوئی تھی اور امن مذاکرات میں تعطل کے پیش نظر بعض فلسطینی عہدے دار اسرائیل کے خلاف تیسری شورش کے امکان سے خبردار کررہے ہیں۔