ایک ایسی نئى رپورٹ کے اجرا کے موقعے پر، جس سے پتا چلتا ہے کہ قومی معیشت کے سُکڑنے کی رفتار زیادہ سُست ہوگئی ہے، امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اُن کی انتظامیہ کی اقتصادی پالیسیوں نے “ کساد بازاری کو بریک لگانے میں مدد کی ہے۔”
صدر نے جمعے کے روز کہا کہ معیشت جس سمت میں جارہی ہے، وہ اس کے بارے میں پُر امید ہیں۔لیکن انہوں نے کہا کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔
انہوں نے نشان دہی کی کہ بڑھتی ہوئى بے روزگاری ابھی تک بھاری تشویش کا معاملہ ہے اور انہوں نے کہا کہ معیشت اُس وقت تک پوری طرح بحال نہیں ہوگی، جب تک روزگار کی صورتِ حال بہتر نہیں ہوگی۔
محکہ تجارت کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ اپریل سے جون تک کے عرصے میں امریکہ کی مجموعی قومی پیداوار میں صرف ایک فیصد سالانہ کی شرح سے کمی آئى ہے، جو کہ اسی سال کی پہلی سہ ماہی میں 6.4 فیصد کی شرح کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے۔
مجموعی قومی پیداوار،امریکہ میں پیداکی جانے والی تمام اشیا اور سروسوں کا ایک ایسا پیمانہ ہے، جس سے وسیع اقتصادی سرگرمیوں کا پتا چلایا جاسکتا ہے۔
امریکہ میں دسمبر2007ء میں کساد بازاری کے آغاز سے اب تک آجر 65 لاکھ ملازمتیں ختم کرچکے ہیں اور ملک میں بے روزگاری کی شرح ابھی حال ہی میں 26 برسوں میں سب سے بلند مقام یعنی 9.5 تک پہنچ گئى ہے۔