ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ میں شب و روز RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

مجسمہٴ آزادی سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا

مجسمہٴ آزادی دنیا بھر میں امریکہ کی علامت بن چکا ہے

شیئر کیجیئے

اِس سال یومِ آزادی کے بعد سے امریکی آزادی کی علامت کو دیکھنے کے لیے آنے والوں  میں سے کچھ کو آٹھ سال بعد354 سیڑھیاں چڑھ کر مجسمے کے تاج تک جانے کا موقع ملا۔

گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد سے اِس یادگار پر چڑھنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

باغات سےمتعلق امریکی ادارے کے عہدے داروں کا کہنا ہےکہ سلامتی کے معاملات کو طے کر لیا گیا ہے اور آئندہ دو سالوں کے دوران اجازت ہوگی کہ دس کی ٹولیوں میں ایک دِن میں 240افراد یادگار پر چڑھ سکیں۔دو سال کے بعد اِسے مرمت و تزئین کی غرض سے بند کیا جائے گا۔

مجسمے کی مرمت کا کام نیا نہیں۔ پچیس برس پہلے آزادی کی دیوی کے اوپر تانبے کی جِلد کی حفاظت اور شکل کی زیبائش کے لیے بہت سارا کام کیا گیا تھا۔ اِس پراجیکٹ پر کام کرنے والے شخص کا نام بلین کِلور ہے۔ وہ فنِ تعمیرات سے وابستہ رہے ہیں اور چھ سال پہلے ریٹائر ہونے کے بعد ریاست ورمونٹ منتقل ہوگئے تھے۔ لیکن اُن کا مقصد نئی عمارات کی تعمیر سے بڑھ کر پرانی عمارتوں کی حفاظت رہا ہے۔

کِلور نے بتایا کہ وہ متعدد بار مجسمے کے اوپرنیچے، اندر باہر آجا چکے ہیں۔ لیکن اب بھی إِس کی ہیبت حاوی ہو جاتی ہے۔ اب بھی یہ  رعب و دبدبے کا منظر پیش کرتا ہے جِس طرح سے اِسے تعمیر کیا گیا اور اِس کے حصوں کو یکجا کیا گیا۔

مجھے لگتا ہے کہ جِن فرنسسیو لوگوں نے مجسمے کو تخلیق کیا وہ قابلِ ستائش ہیں، کہ مجسمے کی تیاری کے پیچھے کیا کچھ کاوشیں شامل نہیں ہوں گی۔ فرانس کے اِن لوگوں نے کمال ِ مہارت کا مظاہرہ کیا۔

مجسمہٴ آزادی 1876ء میں پر فرانس نے امریکہ کے یومِ آزادی کے سو سالہ جشن کے موقعے پر اس کے حوالے کیا تھا۔اِس پر تانبے اور لوہے کا کام ہوا ہوا ہے۔ تب سے لے کر یہ مجسمہ نیویارک بندرگاہ کی زینت اور پہچان بنا ہوا ہے۔

لیکن ستر کی دہائی میں پانی نے مجسمے کو کافی نقصان پہنچایا۔ سب سے پہلے مجسمے میں پیوست شمع پرخرابی کے آثار نمودار ہوئے۔ شمع کے نچلے سرے پر پانی کھڑا ہوگیا، جہاں سے رِستے ہوئے شمع کے اندر پانی پہنچ گیا، پھر ہوتے ہوتے بازو اور پھر باقی مجسمے کے اندر پانی پہنچ گیا تھا۔ بحالی کے اِسی کام کوبعد میں مکمل کیا گیا۔

یہ شمع 250عدد شیشےکے ٹکڑوں سے بنی ہوئی تھی جس میں پانی اندر جا رہا تھا۔ اِسی لیے کِلور نے ایک نئی شمع کی تعمیر کا بیڑا اُٹھایا، جس کے اوپر دھات کا چمک دار سنہری غلاف چڑھایا گیا۔

کِلور نے بتایا کہ مجسمے اور اِرد گِرد کے جزیرے کی مرمت و تزئین میں دو سال کا عرصہ لگا، جِس پر چھ کروڑ ڈالر لاگت آئی۔ یہ پیسے نجی چندے سے جمع ہوئے، اور بقول کِلور یہ بہت بڑا کام تھا جِس میں آزمائش کے لمحات بھی درپیش آئے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اُن کی بیٹی یادگار کے قریب ہی بروکلن میں رہتی ہیں،اُن کے گھر کی چھت سے آپ مجسمہٴ آزادی کے دلفریب منظر کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ آپ کا دل نہیں چاہے گا کہ وہاں سے ایک لمحے کو پرے ہٹیں۔

ہر سال لاکھوں لوگ مجسمہٴ آزادی دیکھنے کے لیے آتے ہیں، لیکن 2001ء سے سیاحوں کے مجمعے میں کمی آتی گئی۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ مجسمے کے تاج تک رسائی کی اجازت ملنے کے بعد علاقے کی رونقیں لوٹ آئیں گی۔

اِس سال چار جولائی کو 240خوش نصیب لوگوں کو مجسمہٴ آزادی کے تاج تک جانے کے ٹکٹ ملے۔ اُن میں کیلی فورنیا کا ایک شخص بھی تھا جِس نے مجسمے کی چوٹی پر پہنچنےکے بعد اپنی گرل فرینڈ کو شادی کا پیغام بھیجا، جس نے ہاں کر دی۔

اب تک تاج تک اوپر جانے کے 14500ٹکٹ بِک چکے ہیں جو کہ اگست کے آخر تک کے لیے کافی ہیں۔