ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ میں شب و روز RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

امریکہ میں مسلمانوں کی فلاحی تنظیموں کومشکلات کا سامنا

شیئر کیجیئے

American Civil Liberties Union_ACLU

امریکی سول لبرٹیز یونین یعنی ACLU  نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی  کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے انسداد کے وفاقی قوانین  کی وجہ سے مسلمانوں کی فلاحی تنظیموں کے لیے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔ تا ہم  وفاقی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ بعض تنظیمیں  فلاحی کاموں کی آڑ میں دہشت گردی کے کارروائیوں کے لیے  پیسہ فراہم کر تی رہی  ہیں۔

امریکن سول لبرٹیز یونین یا ACLU   کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردی  کے لیے مالی وسائل  کی فراہمی کو روکنے کی وفاقی کوششیں  بہت زیادہ مبہم ہیں اور انہیں اکثر مسلمانوں کی فلاحی تنظیموں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اِس رپورٹ کی مصنفہ Jennifer Turner نے وائس آف امریکہ کو نیویارک سے ٹیلیفون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں پر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردوں کے حملوں کے فوراً بعد عمل درآمد شروع کیا گیا تھا اوراب ان میں تبدیلی کی جانی چاہیئے۔ انھوں نے کہا کہ ان قوانین کی وجہ سے  مسلمانوں کے لیے خیرات و زکٰوۃ کے بارے میں اپنے مذہبی احکام پر عمل کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔

Jennifer Turner نے کہا کہ زکٰوۃ کی ادائیگی اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے۔ امریکہ کے مسلمانوں کو ایسی پالیسیوں کے ذریعے جن کا نشانہ فلاحی تنظیمیں ہیں اپنے اِس مذہبی فریضے کی ادائیگی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اِس قسم کی پالیسیوں سے فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے’’ان پالیسیوں سے مسلمان دنیا میں امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ امریکی مسلمان جو دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کو روکنے کی جنگ میں ہمارے انتہائی اہم اتحادی ہیں ہم سے الگ تھلگ ہو جاتے ہیں اور دنیا کے بہت سے علاقوں میں جہاں انسانی مصائب کو دور کرنے کے لیے مسلمانوں کی فلاحی تنظیمیں انتہائی موثر کام کر سکتی تھیں اور  امریکہ کے لیے خیر سگالی کے جذبات پیدا کر سکتی تھیں امداد بھیجنے سے محروم ہو جاتی ہیں‘‘۔

Jennifer Turner نے کہا کہ انھوں نے اپنی رپورٹ کی تیاری کے لیئےامریکی حکومت کے دو سابق عہدے داروں سمیت 120 افراد کو انٹرویو کیا۔ اپنی رپورٹ میں انھو ں نے امریکی حکومت کے محکمہ خزانہ پر تنقید کی ہے کہ اس نے امریکی مسلمانوں کی 9  فلاحی تنظیموں کو بند کر دیا ہے جن میں سے صرف ایک تنظیم پر  دہشت گرد ی کے لیے پیسہ بھیجنے کا الزام ثابت ہوا تھا۔انھوں نے کہا کہ ان فلاحی تنظیموں کو قانونی چارہ جوئی کی سہولت سے محروم کر دیا گیا ہے اور ان کے پاس حکومت کے فیصلے خلاف اپیل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

President Barack Obama (file)

 صدر اوباما

Jennifer Turner کہتی ہیں کہ انہیں امید ہے کہ صدر اوباما ایسی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لیے اقدام کریں گے۔ قاہرہ میں اپنی حالیہ تقریر میں صدر اوباما نے تسلیم کیا تھا کہ امریکی مسلمان کو خیرات اور زکٰوۃ کی ادائیگی کے معاملے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔انھوں نے ان پالیسیوں میں اصلاح کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ تا ہم حکومت کے ایجنٹوں اور سرکاری وکیلوں نے ACLU کے الزامات کے بارے میں شک و شبہے کا اظہار کیا ہے ۔

Jim Jacks گذشتہ سال Dallas میں ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کے خلاف وفاقی حکومت کے کیس میں سرکاری وکیل تھے۔ انھو ں نے کہا کہ ACLU کی رپورٹ ناقص ہے’’اس رپورٹ میں حکومت کے نقطۂ نظر سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے ہم سے رپورٹ کی مصنفہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا چنانچہ آپ کو یہ سوچنا پڑے گا کہ یہ رپورٹ کِس حد تک غیر جانب دار اور صحیح ہے‘‘۔

ہولی لینڈ فاؤنڈیشن امریکہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم تھی جب محکمۂ خزانہ نے اسے دسمبر 2001 میں بند کر دیا۔ حکومت کو ایسے شواہد ملے تھے کہ یہ تنظیم فلسطینی گروپ حماس کو پیسہ بھیج رہی تھی جسے امریکی حکومت نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کے پانچ سرکردہ ارکان کو مجرم پایا گیا اور طویل مدت کی  قید کی سزائیں دی گئیں۔

Jim Jacks کہتے ہیں کہ حکومت نے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جو دہشت گرد تنظیم کے رکن تھے اور اپنی سرگرمیوں کو فلاحی کام بنا کر پیش کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ صرف سازش کرنے والے لیڈروں پر الزام عائد کیا گیا ان لوگوں پر نہیں جنھوں نے یہ سمجھ کر پیسہ دیا تھا کہ اس کا بیشتر حصہ انسانی بھلائی کےمنصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا  کہ صرف ان لوگوں کی جوابدہی کی گئی  ہے جو ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کو چلا رہے تھے اور جنہیں یہ معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ Jacks کہتے ہیں کہ وہ صرف اس کیس کے بارے میں ہی کچھ کہہ سکتے ہیں جس میں انھوں نے مقدمہ چلایا تھا۔ وہ مسلمانوں کے فلاحی تنظیموں کے بارے میں  امریکی حکومت کی مجموعی پالیسی پر تبصرہ  نہیں کر سکتے۔  لیکن Dallas کے کیس میں حکومت نے صرف اس وقت کارروائی کی جب اسرائیل میں گرفتار ہونے والے ایک شخص نے معلومات فراہم کیں۔ اس کے بعد امریکی  حکومت نے تفتیش کی اور ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کے لیڈروں کے خلاف ثبوت جمع کیے۔