اکثر لوگوں کے لیے یہ بات یقیناً دلچسپی کا باعث ہوگی کہ امریکی صدر براک اوباما اردو شاعری پسند کرتے ہیں اور کئی پاکستانی کھانے پکا بھی سکتے ہیں۔حال ہی میں پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے کے ساتھ اپنے ایک تفصیلی انٹرویو میں بتایا کہ قیمہ اور دال کا اردو میں نام لے کر بتایا کہ وہ یہ پاکستانی پکوان پکاسکتے ہیں۔
صدر اوباما نے اپنے زمانہ طالب علمی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ کالج کے زمانے میں ان کے کچھ روم میٹ پاکستانی تھے اور وہ ان کے بہت قریبی دوست تھے۔وہ اپنے کالج کے زمانے میں اپنے دوستوں سے ملنے پاکستان گئے تھے جہاں انہوں نے کچھ وقت کراچی اور حیدرآباد میں گذارا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے دوستوں کی ماؤں نے انہیں پاکستانی کھانے پکانے سکھائے تھے۔
اوباما کہتے ہیں کہ میں قیمہ اور دال پکا سکتا ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں پاکستانی ثقافت اور اردوشاعروں سے بہت لگاؤ ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ اب بھی اردوشاعری پڑھتے ہیں۔اوباما نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ انہیں اب کسی مرحلے پر پاکستان جانے کا موقع ملےگا۔
صدر اوباما کو کرکٹ سے بھی دلچسپی ہے۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے ایک دومرتبہ بیٹنگ کی کوشش کی تھی لیکن میرے لیے یہ ایک مشکل کھیل تھا۔انہوں نے کہا وہ کرکٹ کے بڑے کھلاڑیوں کی قدر کرتے ہیں تاہم انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں اس کھیل میں کسی قسم کی مہارت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
صدر اوباما نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات اور رشتوں کو مضبوط تر بنانے میں امریکہ میں موجود پاکستانی امریکی کمیونٹی انتہائی اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ پاکستانی امریکی زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں طورپر آگے بڑھ رہے ہیں اور خاص طورپر میڈیکل، وکالت اور کاروبار کے شعبوں میں ان کی خدمات قابل ذکر ہیں۔
صدر اوباما نے کہا کہ ان کے خیال میں پاکستان کے لیے اس وقت بہترین موقع یہ ہے کہ وہ امریکہ میں موجو اس انتہائی باصلاحیت اور غیر معمولی مہارت رکھنے والے پاکستانی امریکی کمیونٹی کی جانب سے پاکستانی عوام کو ٹھوس فوائد پہنچانے میں مدد کے لیے راہ ہموار کرے اور میرا خیال ہے کہ یہ پاکستان کے لیے ایک سب سے بڑا چیلنج ہے۔
صدر اوباما نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر تجارت شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات کویقینی بنانا ہوگا کہ پاکستان کے عام شہریوں کو تعلیم کے مواقع ملیں، بچے اسکول جائیں، کاشت کاروں کو اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ مل سکے۔ ملک کے انفراسڑکچر اور بجلی کے منصوبوں کو ترقی دی جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ یہ اس لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ پاکستانی لوگوں کو جانتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ان کےپاس وسائل ہوں تو پاکستانی تیزی سے ترقی کرسکتے ہیں اور ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں۔