21 جون کو امریکہ میں ہر سال ’فادرز ڈے‘ یعنی یوم والد منایا جاتا ہے۔ یہ دن اپنے خاندانوں اور معاشرے کے لیے مجموعی طورپر والدوں کے کردار کوسراہنے کے لیے منایا جاتا ہے۔یہ دن اس بات کے اظہار کا بھی موقع ہوتا ہے کہ آج کی ثقافت میں پدریت سے مراد کیا ہے۔اس موقع پر کیے جانے والے ایک سروے میں اس دن کے حوالے سے یہ تاثرات سامنے آئے۔
نیویارک کے مائیکل رچرڈز کا کہنا ہے کہ جب میں 35 سال کا تھا اور مجھے کوئی یہ کہتا تھا کہ میرے تین بچے ہوں گے تو میں میرا جواب یہ ہوتا تھا کہ کیا تمہارا دماغ درست ہے؟ لیکن اب 56 سال کی عمر میں میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اپنے بچوں کے ساتھ رہنے میں مجھے جو سکون اور خوشی ہے وہ مجھے ایک ارب ڈالر پاکر بھی حاصل نہ ہوتی۔رچرڈز کہتے ہیں کہ ان کا اپنے بچوں کے لیے والد کے طورپر سب سے قیمتی تحفہ ان کا پیار ہے۔
ان سے ایک بلاک کے فاصلے پر رہنے والے ایک لبنانی نژاد امریکی وسیم ملائب کا کہنا ہے کہ ان کی ثقافت میں باپ اپنی محبت کا بہترین اظہار اپنے بچوں کی کفالت کرکے کرتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے معاشرے میں باپ کا پیار ماں کے پیار سے مختلف ہوتا ہے۔ باپ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ بچوں کو اپنے سے بہتر زندگی ملے اور یہ کہ ان کے لیے کھانے پینے کا مناسب بندوبست ہو۔یہ ہے وہ پیار جو ہمارے معاشرے میں ایک والد اپنے بچوں کو دیتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انہیں باپ ہونے پر فخر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا میں نے کسی چیز کو زندگی دے دی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جتنا زیادہ پیار دیتے ہیں، اس کے جواب میں انہیں اتنا ہی زیادہ اپنے بچوں سے پیار ملتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جب میں گھر آتا ہوں اور جونہی دروزاہ کھولتاہوں تو میرے بچے دوڑ کر میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ابو گھر آگئے۔ وہ ہمیشہ مجھ سے سوالات پوچھتے ہیں اور یہ ایک بہت ہی خوش کن احساس ہوتا ہے۔ اور یہی پدریت ہے۔
سابق صدارتی تقریر نویس ٹیڈ سورنسن بھی انہی احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر باپ کو اپنے بچوں سے پیار کرتا ہے،قطع نظر اس کے کہ وہ اس کے معیار پر پورےا ترتے ہیں یا نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے محبت اور تحمل کی ایک مثال بنیں اور گھر میں انصاف سے کام لیں اور مجموعی طورپر دنیا کے لیے اپنی جانب سے کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ والد کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے استاد ہواوراس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔
سورنسن کہتے ہیں کہ اپنے کیئریر کے مصروف ترین دنوں میں بھی وہ اپنے بچوں کو گھمانے پھرانے کے لیے وقت نکالتے تھے اور انہیں وائٹ ہاؤس میں خود سے ملنے کے لیے آنے کی دعوت دیتے تھے جہاں وہ آنکھ مچولی کھیلنے میں بہت مشہور تھے۔
اس کے برعکس ایک دفتر کے ایک سیکیورٹی گارڈ کلف کہتے ہیں کہ انہیں باپ کے طورپر اپنے بچوں سے رشتہ قائم کرنے میں بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے کہ انہیں اس دوران ان کے ساتھ رہنے کا بہت کم موقع ملا جب وہ بڑے ہورہے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم نے زیادہ تر الگ الگ زندگی گزاری اور اب ہم واقعی بہت زیادہ بات چیت نہیں کرتے۔وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بات ان کے لیے اداسی کا سبب ہے۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ممتا اور پدری جذبوں میں بنیادی طورپر کوئی فرق نہیں ہے، تاہم سموئیل مونٹوٹے جیسے لوگوں کا خیال ہے عورت اور مرد کا فطری فرق بچوں کوپالنے کے انداز پر اثر انداز ہوتا ہے۔ان کا کہناہے کہ مثال کے طورپر جب بچے اپنی ماں کے ساتھ کھیلتے ہیں یا اس کے ساتھ کوئی شرارت کرتے ہیں اور ماں ان پر پوری آواز سے چیختی ہے تو بھی بچے اسے نظر انداز کردیتے ہیں لیکن جب باپ ایک ہی دفعہ غصے سے کچھ کہتا ہے تو بچے فوراً سیدھے ہوجاتے ہیں۔
لڑکیوں کی تربیت میں بھی والد کا اہم کردار ہوتا ہے۔ کیرن چاٹ فلیڈ کا کہنا ہے کہ انہیں یہ چیز والد نے سکھائی کہ معاشرے میں مردوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے والد میرے بہترین محافظ تھے اور انہوں نے قدم قدم پر میری راہنمائی کی اور میرا خیال رکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا خیال ہے کہ میں بہت خوبصورت تھی جس کی وجہ سے مردوں کا رویہ میری جانب بہت ہی شفقت آمیز تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک لڑکی کی صحت مند نشوونما کے لیے ضروری ہے کہ اسے اپنے معاشرے کا ادراک فراہم کیا جائے۔
2004ءکے امریکی اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ بچے اپنے گھروں میں اپنے حقیقی والد کے بغیر رہ رہے تھے۔