ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ میں شب و روز RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

امریکی کانگریس میں ایرانی مظاہرین کے حق میں قرارداد

شیئر کیجیئے

Picture posted on TwitPic by  user shadishd173 allegedly shows supporters of Iran's defeated presidential candidate Mr. Mousavi dressed in black during mass protest in Tehran, 18 June 2009

امریکی  قانون سازوں نے ایک   قرارداد کے ذریعے  ایرنی مظاہرین  کے خلاف  کی جانے والی کارروائی اور ملک  کےاخباری میڈیا اور باہمی رابطے کے ذرائع پر  لگائی جانے والی پابندیوں کی مذمت کی  ہے۔

سینٹ اور ایوانِ نمائندگان نے جمعے کے روز متفقہ طور پر   ایرانی مظاہرین کی حمایت میں قرارداد منظور کی، جو اب تک امریکہ کی جانب سے مظاہرین کی سب سے واضح حمایت ہے۔ جب کہ اس سے پہلے ایران کے متنازع انتخابات پر  زیادہ تر  محتاط بیانات دیے گئے ہیں۔قرارداد کے  حمایتیوں نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ ایرانی حکومت کی طرف سے مظاہرین پر کارروائی  کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا جائے۔

ایوانِ نمائندگان  کے 405ارکان نے قرارداد کے  حق میں اور ایک نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ قرارداد میں   ایرانی حکومت  اور حکومت نواز ملیشیاؤں  کی طرف سے مظاہرین پر کیے جانے والے تشدد کی مذمت کی گئی ہے۔

اِس سے پہلے یورپی یونین نےحکومتِ ایران کی طرف مظاہرین کے خلاف  کیے جانے والے اقدامات پر گہری تشویش کا ظہار کیا۔ مظاہرین  کی طرف سے صدر محمود احمدی نژاد کے  دوبارہ  انتخاب کے قانونی جواز پر سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔

جمعے کے دِن یورپی یونین نے ایک مشترکہ بیان جاری  کرتے ہوئے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سبھی شہریوں کو اجتماع کا اور پُر امن طور پر اپنے خیالات کے اظہار کا حق حاصل ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے تشدد اورذرائع ابلاغ پر  حکومتی پابندیوں  کی مذمت کی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اب یہ ایرانی عہدے داروں کی ذمے داری ہے کہ دینا پر ثابت کریں کہ انتخابات منصفانہ تھے۔

ادھر جمعے کے روز ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے تہران میں حمایتیوں کے ایک اجتماع کو خطاب کیا جس میں مزید جلوس نکالنے پر مظاہرین کو خبردار کیا گیا۔ جرمن چانسلر آنگلا مرککل نے تبصرے کو مایوس کُن قرار دیا۔

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ اِی  نے انتخاب کے نتائج کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے نتائج پر سوالات اُٹھا کرغیر ملکی ایران کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔