ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ میں شب و روز RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

احمد ندیم قاسمی؛ شاعر، مصنف، نقاد، صحافی اور دردمند انسان

مجھ سے پہلے اور میرے بعد ندیم صاحب نے ضرورت مندوں پر جو غیر محسوس احسانات کئے ان کے پیشِ نظر میں انہیں پیر دستگیر لکھ رہا ہوں۔

شیئر کیجیئے

چپڑاسی نے دیر سے آنے کی وجہ بتائی، صاحب، ہوا مخالف تھی۔

مرحوم ادیب، شاعر اور صحافی جناب احمد ندیم قاسمی (1916۔2006) کا یوم ِ وفات واشنگٹن کے علاقے میں سوسائٹی  آف اردو لٹریچر کے تحت منایا گیا۔  اس موقع پر اکمل علیمی نے اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا:

پیر ِ دستگیر

احمد ندیم قاسمی اور میرے درمیان ایک راز چلا آ رہا ہے جسے ظاہر کرنے سے میں نے اب تک اجتناب کیا ہے۔  اور اس کی وجہ آپ بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔   میں روزنامہ آفاق میں ملازم تھا۔  بچپن ہی سے مجھے اقتصادی نظم ونسق کے اشتراکی نظریے میں دلچسپی تھی اور میں ایک انقلاب کے ذریعے سرمایہ داری نظام کا تختہ الٹنے کا خواب دیکھنے والوں میں شامل تھا۔

کسی سیانے نے کیا خوب کہا تھا کہ  نوجوانی میں جو شخص سوشلزم کی طرف مائل نہیں ہے، اس کے سینے میں دل نہیں ہے اور جو پختہ عمری میں بھی اس نظریہ کا قائل رہتا ہے، اس کے سر میں دماغ نہیں ہے۔

میں جماعتِ اسلامی کے ترجمان روزنامہ تسنیم سے ہوتا ہوا کوہِ نور ٹیکسٹائل ملز کے مالک سعید سہگل کے جاری کردہ اخبار تک پہنچا تھا۔  آفاق میں آنے سے پہلے میں مال روڈ پر نقی بلڈنگ میں انجمنِ ترقی پسند مصنفین کی ہفتہ وار نشتوں میں شریک ہوتا تھا۔  ندیم صاحب انجمن کے جنرل سیکرٹری تھے اور روزنامہ امروز کے ایڈیٹر۔  جب انہیں پتہ چلا کہ میرے مالی حالات اچھے نہیں ہیں تو انہوں نے مجھے ترجمے کا کام دینا شروع کردیا۔

میں روزنامہ آفاق کا جونئیر رپورٹر تھا اور میری تحریریں وقتاً فوقتاً مخالف روزنامے کے ادارتی صفحے پر شائع ہوتی تھیں۔  یہ ان مضامین کے تراجم تھے جو یونیسکو، پاکستانی اخبارت کو اشاعت کے لئے بھجواتی تھی۔  ترجموں پر ایک قلمی نام چھپتا تھا لکین ان کا معاوضہ مجھ تک پہنچ جاتا تھا۔  یہ سلسلہ غالباً چھ آٹھ ماہ چلا اور اس کے بعدندیم صاحب نے مجھے امروز میں بلا لیا۔  ادارے نے عبداللہ ملک کے بعد دوسرا پورٹر ملازم رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور یوں میرے لئے دو سو بیس روپئے ماہوار یقینی ہو گئے تھے جو اس زمانے میں ایک معقول تنخواہ تھی۔

مجھ سے پہلے اور میرے بعد ندیم صاحب نے ضرورت مندوں پر جو غیر محسوس احسانات کئے ان کے پیشِ نظر میں پیرزادہ احمد ندیم قاسمی ، بی۔اے کو پیر دستگیر لکھ رہا ہوں۔

آزادی کے بعد ہندوستان سے جن اہل قلم نے ہجرت کی ان میں سے کچھ سیدھے ندیم صاحب کے پاس آئے اور ان کی امداد سے لاہور اور نوزائیدہ پاکستان کے دوسرے حصوں میں آباد ہوئے۔  ان میں ایک خاندان عائشہ جمال، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور اور ان کی دو اور بہنوں اور دو بھائیوں پر مشتمل تھا جو نسبت روڈ پر ندیم صاحب کے گھر پر مہمان رہا۔  پھر رفتہ رفتہ ندیم صاحب نے جواں سال لڑکیوں کے رشتے تلاش کئے۔ عائشہ ابھرتے ہوئے صنعت کار رحمٰن سے، خدیجہ، ندیم صاحب کے بھانجے ظہیر بابر سے، ہاجرہ پاکستان ٹائمز کے مدیر معاون احمد علی خان سے، تیسری بہن ہفت روزہ لیل و نہار کے حسن عابدی اور چوتھی نوجوان وکیل وہاب الاخیری سے بیاہی گئیں اور اپنے اپنے گھروں میں آباد و شاد ہوئیں۔

بہنوں کے ایک بھائی توصیف احمد خان صحافت کے میدان میں آئے اور دوسرے خالد احمد دواساز اداروں کے لئے کام کرنے کے بعد اچھے شاعر اور ادیب بنے۔  اسی دوران میں ندیم صاحب نے شاعروں، افسانہ نویسوں اور ادبی نقادوں کی ایک نسل کی آبیاری کی اور ان کی تحریروں کے دیباچے اور پیش لفظ لکھ کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔

ندیم صاحب ہر نوخیز ادیب میں کچھ محاسن ڈھونڈ لیتے تھے اور ان کی کتابوں کے لئے تقریظیں لکتے تھے۔  کسی نے شاید درست کہا کہ انہوں نے نئی کتابوں کے دیباچے اس کثرت سے لکھے کہ اس زمرے میں وہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ پا سکتے ہیں۔

امروز میں ندیم صاحب سے میرا واسطہ کوئی دو سال رہا۔  اخباری معمولات کے مطابق صبح دس بجے ان کے کمرے میں ادارہٴ تحریر کے ارکان کی میٹنگ ہوتی تھی جس کا مقصد، حریف اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین اور خبروں کا جائزہ، تحریروں کے لئے موضوعات کا انتخاب اور رپورٹنگ کے لئے اشارات کا تعین تھا مگر ندیم صاحب کی میٹنگ میں دو کام زیادہ اہمیت اختیار کر گئے تھے جو ان کی فراخ دلی اور بزلہ سنجی کا ثمر تھے۔

ندیٕم صاحب سگریٹ کے عادی تھے اور میٹنگ سے پہلے تھری کاسل کی ڈبیا میز پر رکھ دیتے تھے۔  باتوں باتوں میں عبداللہ ملک ہاتھ بڑھا کر ڈیبا سے ایک سگریٹ لے لیتے اور سلگا کر کش لگانے لگتے تھے۔  یہ چوری اس قدر روانی اور بے تکلفی سے ہوتی تھی کہ حاضرین کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کے سِوا کسی رد عمل کا سبب نہیں بنتی تھی اور میٹنگ کی کارروائی جاری رہتی۔  آخر میں ندیم صاحب کوئی لطیفہ سناتے تھے اور محفل زعفران زار بن کر برخاست ہو جاتی۔

ایک روز کہنے لگے کہ کل میں نے فرمان علی کو سگریٹ کی ڈبیا خریدنے کے لئے باہر بھیجا۔  فرمان علی ایڈیٹر کا چپڑاسی تھا۔  وہ گہرے گندمی رنگ کا دبلا پتلا اَدھیڑ عمر آدمی تھا، غالباً بہِار کا مہاجر تھا اور بائیسکل پر دفتر آتا تھا۔  میں نے اسے کبھی ہنستے یا مسکراتے نہیں دیکھا تھا۔  ایسا لگتا تھا کہ کوئی گہرا غم ہے جو اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔   ندیم صاحب نے بتایا کہ ان کی ہدایت پر وہ بازار گیا اور کوئی تین گھنٹے کے بعد سگریٹ کی ڈبیا خرید کر واپس آیا۔  ندیم صاحب نے احتراماً پوچھا، فرمان علی، دفتر کے باہر گوالمنڈی کا چوک ہے جہاں پان سکریٹ کی بہت سی دکانیں ہیں، آپ بائیسکل پر آتے جاتے ہیں، پھر سگریٹ کی ڈبیا خریدنے میں اتنا وقت کیوں لگا؟  فرمان علی نے جبلی متانت سے جواب دیا، میاں کیا کرتے ہوا مخالف تھی۔

سات اکتوپر 1958 کو ایڈیٹر کے دفتر میں یہ دلچسپ محفلیں ختم ہوگئیں۔  اب ہم جنرل محمد ایوب خان کے مارشل لا کی زد میں تھے اور سنسرشپ کے گھناؤنے سائے میں کام کر رہے تھے۔  جلد ہی ایسی افواہیں گشت کرنے لگیں کہ فوجی حکومت پروگرویسِو پیپرز لمیٹڈ (پی پی ایل) کے اخبارات روزنامہ پاکستان ٹائمز، روزنامہ امروز، اور ہفت روزہ لیل و نہار کی کارگذاری سے خوش نہیں ہے کیونکہ ان مطبوعات کی جانب سے اسے خاطر خواہ حمایت نہیں مل رہی ہے۔  احمد ندیم قاسمی، پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر مظہر علی خان اور لیل و نہاں کے مدیر سید سبط حسن کو ماضی کی سولین حکومتوں نے کئی بار جیلوں میں ڈالا تھا اور وہ قیدوبند کی مزید صعوبتیں سہنے کو تیار تھے۔  پھر بھی ہم سوچتے تھے کہ ہمارا کام حالات و واقعات کو معروضی انداز میں شائع کرنا اور ان پر بے لاگ تبصرے کرنا ہے۔  ہم کسی قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہے ہیں جو فوجی حکومت ہمارے خلاف زیادہ سخت قدم اٹھائے گی۔ 

مگر ہماری خوش فہمیاں جلد ہی پارہ پارہ ہو گئیں جب سنیچر، اٹھارہ اپریل، 1959 کو فوجی حکومت نے پی پی ایل پر شب خون مارا۔  جمعہ کو آدھی رات کے بعد جب اخبار کی آخری کاپی پریس گئی تو میں، نیوز ایڈیٹر حمید ہاشمی، سب ایڈیٹر فیصل ہاشمی، سب ایڈیٹر نظیر لدھیانوی اور نائٹ شفٹ کے دوسرے ارکان کے ہمراہ دفتر سے نکلا۔  اگلے دن قبل از دوپہر کام پر گیا تہو دفتر کو پولیس کے گھیرے میں پایا۔  پی پی ایل پر فوجی حکومت کا قبضہ تھا۔

مظہر عل خان، جن کے ہم زلف لیفنٹنٹ جنرل کے ایم شیخ، فوجی حکومت میں وزیر داخلہ تھے اور پی پی ایل پر ٹیک اوور کی قیادت کر رہے تھے،  ان کا نام لئے بغیر کہتے ہیں” تقریباً دوپہر کو جب میں دفتر پہنچا تو دیکھا کہ قبضہ واقعی مکمل ہے۔  مسلح پولیس والے جن کی پیٹیوں سے ہتھکڑیاں لٹک رہی تھیں دروازے پر کھڑے تھے اور سی آئی ڈی کے لوگ  ہر طرف بکھرے ہوئے تھے۔  جب میں نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولنا چاہا تو ایک پہرے دار نے روک دیا۔  مینجنگ ایڈیٹر کے دفتر میں (ریڈیو پاکستان کے) محمد سرفراز براجمان تھے جو اسی دن پی پی ایل کے ایڈمنسٹریٹر مقرر کئے گئے تھے۔  ان کی مداخلت پر مجھے اپنے دفتر میں داخلہ ملا۔

اس واقے سے گیارہ سال بعد مظہر صاحب نے ڈھاکہ سے نکلنے والے جریدے فورم میں اس کی تفصیلات بیان کیں جن سے ظاہر ہوا کہ اس صبح ساڑھے پانچ بجے جنرل شیخ ان کے گھر آئے اور انہیں فوجی حکومت کے فیصلے سے آگاہ کیا۔  جنرل شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت پی پی ایل سے میاں افتخارالدین کو الگ کرنا چاہتی ہے۔   اسے اخبارت کے ایڈیٹروں کے رہنے پر کوئی اعتراض نہیں۔  ٕظہیر صاحب لکھتے ہیں کہ سرفراز نے سرکاری اقدام کی جزئیات بیان کرنے کے بعد انہیں دی نیو لیف کے عنوان سے وہ مضمون بھی دکھایا جو اگلے دن پاکستان ٹائمز میں بطور ایڈیٹوریل اور امروز میں اس کا ترجمہ “نیا ورق”  ادارے کی جگہ شائع ہوا۔  اس مضمون میں پی پی ایل کی جانب سے اقبالِ جرم کیا گیا تھا کہ ہم اب تک بیرونی طاقتوں کے آلہٴ کار رہے ہیں اور دیانتداری سے اپنا فرض ادا نہیں کر پائے۔  مظہر علی لکھتے ہیں کہ مبینہ طور پر یہ فوجی حکومت کے سیکرٹری اطلاعات قدرت اللہ شہاب کی تحریر تھی۔  بقول ان کے، “ اس سے زیادہ احمقانہ مضمون ان اخبارات کے کالموں میں کبھی شائع نہیں ہوا تھا”۔  شہاب صاحب نے اپنی افسانوی سوانح عمری شہاب نامہ میں اس تحریر کے دفاع میں لمبی چوڑی صفائی پیش کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مضمون لکھنے پر وہ مجبور تھے۔

مظہر علی خان، سید سبط حسن اور احمد ندیم قاسمی کے کمروں میں گئے اور انہیں آگاہ کیا کہ وہ پاکستان ٹائمز سے الگ ہو رہے ہیں۔  تھوڑی دیر میں تینوں مطبوعات کے بیشتر کارکن، پی پی ایل کی عمارت کی دوسری منزل کے کشادہ صحن میں جمع ہو چکے تھے اور ایڈیٹر حضرات ماتحت اہل قلم کو بتا رہے تھے کہ وہ مستعفی ہو رہے ہیں۔  مجھ پر کوئی عائلی ذمہ داریاں نہیں تھیں، دہلی دروازہ میں بزرگوں کی درگاہ پر میری رہائش تھی۔  احمد ندیم قاسمی اور سبط حس یہ جگہ دیکھ چکتے تھے جو گرمیوں میں ٹھنڈی ہوتی تھی اور حاضرین کو پیٹ بھر کر کھانا بھی فراہم کرتی تھی۔  میں نے ایڑیاں اٹھا کر قاسمی صاحب سے کہ کہ آپ کے ساتھ ہم بھی مستعفی ہو جائیں گے۔  اس پر قاسمی صاحب بولے، یہ مناسب نہیں، آپ یہیں رہیں، شاید مستقبل میں آپ سے کوئی مفید کام لیا جائے۔  اس روز احمد ندیم قاسمی، مظہر علی خان، پاکستان ٹائمز کے چیف رپورٹر سید افتخار احمد اور سید سبط حسن پی پی ایل سے رخصت ہو گئے اور ادارے کا زوال شروع ہوا۔