وائس آف امریکہ کے ٹی وی شو خبروں سے آگے کے ایک ہفتے وار سلسلے کا نام ’ہیلو امریکہ‘ ہے۔ اس پروگرام میں پاکستان میں رہنے والے لوگوں کے ایسے سوال شامل کیے جاتے ہیں جن کاتعلق امریکہ سے ہوتا ہے۔ لاہور سے حاجی ظہیر احمد نے اپنے ایک ای میل میں امریکی مٹھائیوں کے بارے میں پوچھا۔
انہوں نے اپنی ای میل میں لکھا تھا کہ میں لاہور کی ایک مشہور مٹھائیوں کی دکان کا مالک ہوں۔ ہم یہ کاروبار 1947 سے کر رہے ہیں۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا امریکہ میں بھی پاکستان کی طرح مٹھائیوں کی دکانیں ہوتی ہیں؟ اور وہاں لوگ کیسی مٹھائیاں پسند کرتے ہیں؟ کیا آپ ہمیں کسی مشہور امریکی میٹھے کو بنانے کی ترکیب بتا سکتے ہیں؟
وائس آف امریکہ نے اس سوال کا جواب ٹریسا ولاسکز سے حاصل کیا جو جورج ٹاون میں واقع بیکڈ اینڈ وائیرڈ نامی بیکری کی مالکہ ہیں۔ انہوں نے صدر اوباما کی پچھلی سالگرہ پر ان کی پسندیدہ پیکان پائی بنائی تھی۔ جسے وہائٹ ہاؤس میں بہت زیادہ پسند کیا گیا تھا۔
ٹریسا کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں کئی اقسام کے روائتی امریکی میٹھے بنتے ہیں۔ان میں ایک ایپل پائی ہے۔ یہ امریکہ کا روائتی میٹھا ہے جو کہ بہت زیادہ کھٹے سیب سے بنتا ہے۔ اسے آپ اپنےذائقے کے مطابق کم یا زیادہ میٹھا بنا سکتے ہیں۔ امریکہ میں اس وقت کپ کیک کا بہت رجحان ہے۔ خاص طور پر امریکہ کے مشرقی ساحل میں۔ وہاں ہر کوئی کپ کیکز بنا رہا ہے۔ بہت خوبصورت، وزن اور اجزا میں ہلکے کپ کیکز، ایسے جو گھر کے بنائے ہوئے لگتے ہیں اور ان میں مکھن استعمال کیا جاتا ہے، وہ کسی قدر ثقیل ہوتے ہیں۔ ان کی آئسنگ بہت زیادہ میٹھی ہوتی ہے۔ بعض اوقات لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ کپ کیک مجھے بہت اچھا لگا لیکن وہ بہت زیادہ میٹھا تھا۔تو ظاہر ہے وہ میٹھا تو ہوگا کیونکہ وہ چینی، مکھن اور دودھ سے مل کر بنتا ہے اور کم و بیش یہی اجزا یہاں بنائے جانے والے تمام میٹھوں کے بنیادی جزو ہیں، یعنی مکھن، چینی، انڈے اور میدہ۔ چاکلیٹ بھی بہت زیادہ پسند کی جاتی ہے۔ لیکن یہاں ہم چاکلیٹ کو براؤنی کی شکل میں پسند کرتے ہیں اور عموماً امریکی میٹھے بہت ثقیل ہوتے ہیں۔ میں اپنی بنائی ہوئی براؤنی کا صرف ایک چوتھائی حصہ ہی کھا سکتی ہوں۔ تاہم یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو پوری براؤنی کافی کے ایک کپ کے ساتھ کھا جاتے ہیں۔ تو میں کہوں گی کہ ہم امریکی میٹھے کے بہت شوقین ہیں۔ دوپہر کے وقت، کسی بھی کھانے کے بعد اکثر امریکی کچھ میٹھا کھانا پسند کرتے ہیں۔