ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • اتوار, 29 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

امریکہ میں شب و روز RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

اوہائیو کے اسلامک سینٹر کی پہلی خاتون سربراہ سلمینہ صدیق

شیئر کیجیئے


مغرب میں کچھ لوگوں کے ذہنوں میں  ایک عرصے سے اسلامی عقیدے خاص طورسے عورت کے  معاشرے میں مقام  کے حوالے سے منفی تصورات پائے جاتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی معاشرہ عورت کے حقوق اور آزادیوں پر پابندیاں عائد کرتا ہے۔ لیکن امریکی   ریاست اوہائیو کے شہر ٹولیڈو   سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون  ان تصورات کی نفی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔  انہیں حال ہی میں ایک مقامی اسلامک سینٹر  کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔  وہ اس سینٹر سے منسلک کمیونٹی  سینٹر،  سکول  اور امام کی سرگرمیوں سمیت  مسجد کے امور  کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ ان کا مقصد غیر مسلم دنیا کو  یہ باور کرانا  ہے کہ اسلامی معاشرہ اہم ترین ذمہ داریوں میں بھی خواتین کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہے۔

دوسری  بہت سی  افغان خواتین کی طرح  سلمینہ صدیق اوہائیو  کے شہر ٹولیڈو میں واقع اپنے گھر میں خاندان کے ساتھ وقت گزار کر  خوشی محسوس کرتی  ہیں۔  تاہم کچھ دوسری مسلمان خواتین کے برعکس سلمینہ گھر سے باہر،  ٹولیڈو کی مسلم کمیونٹی میں بھی  ایک اہم کردار ادا کر رہی  ہیں۔ وہ مسجد سعد اسلامک سینٹر کی پہلی خاتون صدر ہیں۔  اس سینٹر میں  ایک اسلامی سکول اور کمیونٹی کا ایک مرکز بھی شامل ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ کسی کے لیئے بھی ایک مشکل پوزیشن ہے۔  یہ ایک بڑی  ذمے داری ہے۔  اور مجھے  ہر لمحے یہ کام احسن طریقے سے ادا کرنے کی فکر  رہتی ہے۔

ٹولیڈو کا شہر وسطی امریکہ کا ایک پرانا صنعتی شہر ہے۔  مسجد سعد سینٹر  کا آغاز  بیس سال پہلے ایک مقامی یونیورسٹی میں نماز پڑھنے کے لیے چھوٹی سی جگہ کے طور پر ہواتھا۔  اب یہاں مسلم کمیونٹی کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔
 
سلمینہ ایسے غیر مسلموں  کے دلوں میں پائے جانے والے منفی تصوارت میں تبدیلی لانا چاہتی ہیں  جن کا تعلق خاص طور مسلم معاشرے میں خواتین کے مقام سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ  خواتین کو تعلیم نہ دلوانے،  مردوں کے بغیر  گھر سے باہر نہ نکل سکنے  یا ان کےپردے  کے حوالے سے احکامات کی بنیاد مذہب میں نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں پائی جانے والی  ثقافت میں ہے۔ وہ کہتی ہیں   آنحضور   ﷺ کے دور میں خواتین میدان جنگ تک میں خدمات  سرانجام دیتی تھیں،  وہ تجارت کرتی تھیں اور زندگی کے دوسرے امور نمٹاتی تھیں۔

سلمینہ اپنے خاندان کے کاروبار  میں بھی ایک نمایاں رول ادا کر رہی ہیں۔ وہ اپنے شوہر احمد کے آٹو ڈیلر شپ کےبزنس  میں کمپیوٹر سسٹم اور حساب کتاب کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ ان کے شوہر نے ہی  اسلامک سینٹر کا صدر بننے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

ان کے شوہر احمد صدیق کہتے ہیں کہ اسلامک سینٹر کا انتظام چلانے کے لیے ہمیں اپنی کمیونٹی  ہی میں سے فوری طور پر کسی کی ضرورت تھی۔  سلمینہ اس  کام کی اہلیت رکھتی تھیں،  اس لیے میں ان کی مکمل طورپر سپورٹ کرتا ہوں۔ 

سلمینہ کا کہنا ہے کہ لوگوں  کے منفی تصوارت میں  تبدیلی  کا بہترین طریقہ عملی مثال  قائم کرنا ہے۔ وہ نوجوانوں کو  سینٹر  میں زیادہ  متحرک ہونے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ سلمینہ سینٹر سے باہر کے مسلمانوں کے بھی زیادہ متحرک ہونے کی  خواہش  رکھتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ سیاست میں ہمارے  لوگ موجود نہیں،  سماجی  خدمت کے شعبے میں ہمارے لوگوں کی کمی ہے۔  ان کے نزدیک یہ چیز ترجیح نہیں  رکھتی لیکن میرے لیے بہت   اہم ہے۔

اسلامک سینٹر کے سربراہ کے طورپر ان کے عہدے کی مدت ایک سال کی ہے۔  وہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے،  متحرک ہونے اور اپنے اسلامی حقوق کےلیے کھڑے ہونے کے لیے ان  کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔