ٹوین اوکس کمیون کی اکثر ترکاریاں یہاں فارم پر ہی اگائی جاتی ہیں
کارل مارکس کے نظریاتی کمیون سسٹم کا تصور سویت یونین کے ٹوٹنے کے ساتھ ہی بکھر گیا جس کے بعد اکثر اشتراکی حکومتوں نے اپنے نظاموں میں اصلاحات کرلیں ۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی ریاست ورجینیا کے علاقے ٹوئن اوکس میں ایک ایسا کمیون سسٹم اب بھی کام کررہاہے۔ یہاں رہنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، جنہیں گو جدید دور کی کم تر آسائشیں میسر ہیں، لیکن وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں۔ یہ کمیون سینٹر دارالحکومت واشنگٹن سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔
اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ ورجینیا فارم میں ایک سو افراد رہ رہے ہیں لیکن اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک پرسکون جگہ ہے۔ رس مک لی کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ یہاں پر یوٹوپیا یعنی خیالی دنیا کی تلاش میں آتے ہیں۔
مک لی کہتے ہیں کہ یہ یوٹوپیا نہیں ہے لیکن انہیں یہاں رہنے پر کوئی پچھتاوا بھی نہیں ہے۔ وہ سات سال سے یہاں رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ سادگی پر یقین رکھتے ہیں اور یہاں آپ کو بہت زیادہ سفر کرنے یا تفریح کے مواقع نہیں ملتے۔ لیکن زندگی پر سکون ہے۔
یہاں سیر و تفریح کا سامان بھی ہے لیکن زندگی بہت سادہ ہے۔ یہاں رہنے والے فیس بک اور ٹیوٹر کی بجائے بل بورڈز اور کلپ بورڈز پر اپنے نوٹسز لگاتے ہیں۔ چونکہ یہاں پر لوگ بلڈنگز پر رہتے ہیں جن میں دس سے بیس لوگ ہوتے ہیں اس لیے یہاں پر کوئی پرائیویسی نہیں ہے۔
آرتھن حال ہی میں یہاں آئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں ٹوئن اوکس کی یہی باتیں پسند ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے پچیس سال کام کیا اور چار سال اس گھر میں گزارے جہاں میں اپنے پڑوسیوں کو بالکل نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہیں لیکن اب میں نوے لوگوں کے ساتھ رہتا ہوں اور میں ان سب کو جانتا ہوں یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ کسی چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہوں۔
ایک ایسا گائوں جہاں پر ہر چیز مفت ہو۔ ویلری یہاں پر سات سال سے رہ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں رہنے کو جگہ ملتی ہے ہمیں صحت سے متعلق سہولیات ملتی ہیں۔ ہمیں کھانا ملتا ہے اور کپڑے بھی دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر ماہ ہمیں پچھتر ڈالرز دوسرے اخراجات کے لیے ملتے ہیں۔
نئے ممبرز کو اپنے اثاثے کمیون کو دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ کمیونٹی کام کرنے سے چلتی ہے۔ کالٹا کا کہنا ہے کہ دراصل معاہدے کے مطابق ہفتے میں بیالیس گھنٹے ہمیں کام کرنا ہوتا ہے اور کمیونٹی اپنے اخراجات برداشت کرتی ہے۔ ممبرز اپنے کام کا انتخاب خود کرتے ہیں یہاں بہت کام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان میں روزمرہ زندگی کے تمام کام شامل ہیں۔ جیسے کہ ہم اپنی کاروں کو خود ٹھیک کرتے ہیں ہم اپنی بلڈنگز خود بناتے ہیں اور اس کے علاوہ ہم اپنے بچوں کو خود پڑھاتے ہیں۔
ٹوئن اوکس میں بزنس سے حاصل ہونے والی رقم سے صارفین کے لیے مختلف اشیاء جیسے آٹو موبل خریدتا ہے ۔ کمیونٹی کے پاس سترہ گاڑیاں ہیں۔ ہر چیز کی طرح یہ بھی مل کر استعمال کی جاتی ہے۔ اور اس طرح یہ بہت سی امریکی کمیونٹیز کے مقابلے میں ٹوئن اوکس کے ماحول کو دوستانہ بناتی ہے۔کالٹا کا کہنا ہے کہ ہم چھیاسٹھ فیصد سے بھی کم بجلی اور پچھتر فیصد سے بھی کم گیسولین خرچ کرتے ہیں۔ اٹھاسی فیصد سے بھی کم کچرا زمین کی بھرائی میں صرف ہوتا ہے۔
بنیادی طور پر یہ طرز ِ زندگی کمیونسٹ طرز کی ہے۔ لیکن بہت سے ممبرز یہاں سے نکل کر سرمایہ کار بن گئے ہیں۔ کینن ڈکوٹا یہاں کی ایک ممبر ہیں۔ ا ن کا کہنا ہے کہ ہم ایک کمیونل سوسائٹی میں رہتے ہیں اور ہم لوگ مستقبل کے سرمایہ کاروں کو تربیت دے رہے ہیں۔ یہاں پر رہنے کی گنجائش کم ہے اس لیے بہت سے لوگ ٹوئن اوکس میں رہنے کے لیے ویٹننگ لسٹ میں ہیں۔