’لوگوں کو چوکیوں پر شدید گرمی میں بغرضِ تلاشی گھنٹوں گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے‘
سوات، بونیر اور مالاکنڈ کے دیگر علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کی گھروں کو رضاکارانہ واپسی کا سلسلہ بدھ کو تیسرے روز بھی جار ی رہا۔
مردان اور صوابی کی مختلف خیمہ بستیوں سے اب تک تقریباً 1300کے لگ بھگ خاندان اپنے اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکے ہیں۔ تیسرے روز واپس جانے والے لوگوں کی اکثریت کا تعلق ضلع بونیر سے بتایا جاتا ہے۔
سوات کے علاقے لنڈاکی سے لے کر بلوگرام تک کے گاؤں اور قصبوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں خاندان ابھی تک اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکے ہیں۔ اگر ایک طرف زیادہ تر لوگ واپس جانے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری طرف مسلسل کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے ان لوگوں کی معاشی، اقتصادی اور سماجی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔
سوات کے تاریخی قصبے بری کوٹ میں سڑک کے کنارے واپس آنے والوں کا خیرمقدم کرنے والے درجنوں افراد صبح سے شام تک کھڑے رہتے ہیں۔اِن افراد میں سے بعض نے گفتگو میں اپنے احساسات اور مشکلات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ بازار بند ہونے کی وجہ سے ضروریاتِ زندگی کی کوئی چیز دستیاب نہیں ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ کرفیو ختم کیا جائے تاکہ ان کی مشکلات ختم ہوں۔
کرفیو کے نفاذ کے علاوہ مردان سے لے کر سوات کے کونے کونے تک سڑکوں پر سیکیورٹی فورسز کی متعدد چوکیوں پر گاڑیوں میں سوار لوگوں کو شدید گرمی میں بغرضِ تلاشی گھنٹوں گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ واپس جانے والے لوگوں نے اپیل کی ہے کہ تلاشی اور شناخت کے اِس طریقہٴ کار میں مناسب تبدیلی لائی جائے۔