ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

حقوقِ انساں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

جنوبی وزیرستان سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری

شیئر کیجیئے

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتےجنوبی وزیرستان میں طالبان باغیوں کے خلاف شروع کی جانے والی کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی شہری نقل مکانی کر رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق بے گھر لوگوں کی امداد کی جارہی ہے تاہم امدادی سامان میں غذا ئی اشیا شامل نہیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے بتایا ہے کہ 13اکتوبر سے لے کر اب تک مقامی اہل کاروں نے32ہزار اندرونِ ملک بے گھر ہونے والوں کو رجسٹر کیا ہے۔ اِس کے بعد مئی سے اب جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی کُل تعداد ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔

ادارہ اپنے مقامی شراکت داروں کے تعاون سے متاثرہ لوگوں میں باورچی خانے کا سامان، کمبل، سونے کے لیےچٹائی اور پانی کےڈبے تقسیم کر رہا ہے۔ اِس کا کہنا ہے کہ امدادی اشیا کی تقسیم کا کام بدھ کو بھی جاری رہے گا۔

ادارے کے ترجمان ایندری ماہک کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں لڑائی کے باعث نقل مکانی پر مجبور لوگوں نے میزبان خاندانوں کے ساتھ رہائش اختیار کی ہے۔

 تاہم حکومت نے یو این ایچ سی آر کو بتایا ہے کہ متاثرین کے لیے خیمے قائم کرنے پر غور کیا جارہا ہے، اورموسم کی شدت کا مقابلہ کرنے کے لیے محفوظ خیمے اور اگر ضرورت ہو تو خیمہ بستی قائم کرنے میں مدد دینےکو تیار ہیں۔

علاقے میں سلامتی کے پُر تشدد ماحول میں کارروائی کے دوران بے گھر ہونے والے ضرورت مندوں کی انسانی بنیادوں پر امداد میسر کرنا فلاحی اداروں کے لیے چیلنج سے کم نہیں۔ انفرادی خاندانوں کو امداد بہم پہنچانے کے علاوہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باعث ہسپتالوں، اسکولوں اور عوامی سہولیات کی تنصیبات کو بھی امداد کی ضرورت پڑے گی۔

دریں اثنا عالمی ادارہٴ صحت کے ترجمان پول گاروڈ نے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی بڑی تعداد علاقے کی صحت کی ضروریات پر سنگین بوجھ بنے گی۔

گاروڈ کے بقول عالمی ادارہٴ صحت نے رسد پہنچانے کا بندوبست کر رکھا ہے اور علاقے میں بے گھر ہوکر آنے والوں کو خدمات میسر کرنے کی خاطر صحت سے متعلق پاکستانی اہل کاروں کودرکار تربیت دینا چاہتا ہے۔ لیکن جب اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے لوگوں کا تانتا بندھا ہو تو زیادہ رسد کی ضرورت پڑتی ہے، خصوصی طور پر صحت کی سہولیات کو مؤثر بنانے کے لیے۔
اب تک علاقے میں کسی بیماری کے پھیلنے یا اموات ہونے کا کوئی خدشہ لاحق نہیں۔ لیکن ادادہ ایسی کسی امکانی صورتِ حال سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہے۔

گاروڈ کہتے ہیں کہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ پولیو سےبچاؤ کے کارکنوں کی تعیناتی کےلیے عالمی ادارہٴ صحت کام کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں اِس طرح سرحد پار کرکے افغانستان جانے والے بچوں کو پولیو کی بیماری کے خلاف قوتِ مدافعت مل جائے گی۔

گاروڈ نے مزید کہا کہ اگلے تین ماہ تک علاقے کے 50ہزارافراد کو صحت کی ہنگامی ضروریات پہنچانے کی خاطرعالمی ادارہٴ صحت نے گذشتہ ہفتے کے دوران کافی تعداد میں طبی رسد مہیا کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ عالمی ادارہٴ صحت ادویات کی مزید رسد بھیج رہا ہے تاکہ مستفید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر دوگنی ہوجائے۔