(یو این ایچ سی آرکو سوات کے مقابلے پر وزیرستان سےکم تعداد میں لوگوں کے ہجرت کرنے کی توقع ہے
پاکستان کے صوبہٴ سرحد میں اُن بے گھر افراد کا ریلا آیا ہوا ہے جو سرکاری فوجیوں اور طالبان جنگ جوؤں کے درمیان لڑائی سے فرار ہوکر وہاں پہنچے ہیں۔ اِس سے پہلے اِسی سال کے اوائل میں وادیِ سوات سے تقریباً 20لاکھ افراد دربدر ہوگئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان آندرے مہیچک نے کہا ہے کہ اُن کے ادارے کو وزیرستان سےسوات کے مقابلے پر کم تعداد میں لوگوں کے آنے کی توقع ہے۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ ایک بڑی تعداد محفوظ علاقوں کی طرف جارہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ حالیہ دِنوں میں مقامی حکام نے نئے آنے والوں کی رجسٹریشن شروع کی ہے اور گذشتہ تین روز میں منتقل ہونے والے اندازاً دو ہزارخاندانوں میں سے 800 رجسٹر ہوچکے ہیں۔
اگرچہ جنوبی وزیرستان سے اِن افراد کی نقل مکانی موسم کی بنیاد پر ہوسکتی ہے، تاہم بیشتر خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ بمباری کے خدشے سے وہاں سے نکل آئے ہیں۔ اگر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع ہوگئی تو بے گھر افراد کی تعداد میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پناہ گزینوں کا ادارہ اپنے پارٹنرز کے ساتھ مل کر پلاسٹک کی چادریں، سونے کے لیے چٹائیاں اور کھانے پینے کا سامان اِن افراد میں تقسیم کر رہا ہے۔
اِسی اثنا میں عالمی ادارہٴ صحت کے ترجمان پال گاروڈ نے کہا ہے کہ اِس علاقے میں طبی سازو سامان کی کمی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کرنے والی صرف 42 فی صد تنصیبات تک پانی کی رسد پہنچ رہی ہے۔ میڈیکل اسٹاف کی، خاص طور پرخواتین پر مشتمل عملے کی تعداد مختصر ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خراب ہوتی ہوئی صورتِ حال ملک کے اندر اُن کی انسانی ہمدردی سے متعلق کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔