ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

حقوقِ انساں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

سوڈان: پتلون پہننے پر صحافی خاتون کو جرمانے کی سزا

شیئر کیجیئے

سوڈان کی ایک عدالت ایک صحافی خاتون لُبنیٰ حسین کو گھر سے باہر پتلون پہننے پر ناشائستگی کی مرتکب قرار دیا ہے۔

پیر کے روز لُبنیٰ حسین کے مقدمے کے عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ 40 کوڑوں کی ممکنہ سزا سے بچ گئیں، لیکن عدالت نے انہیں 200 ڈالر جرمانے کی سزا دی ہے۔

لُبنیٰ نے مقدمے کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرمانہ ادا نہیں کریں گی اور جیل جانے کو ترجیح دیں گی۔

لُبنیٰ حسین اور 12 اور عورتوں کو، جو سب پتلون پہنے ہوئے تھیں، تین جولائى کو خرطوم کے ایک قہوہ خانے میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ دس عورتیں کوڑے کھانے پر رضا مند ہوگئى تھیں، لیکن لُبنیٰ اور دو اور عورتوں نے عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ان کے خلاف مقدمے پر اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک کڑی نکتہ چینی کی گئی تھی۔

پیر کے روز اس سے پہلے پولیس نے اُن درجنوں عورتوں کو حراست میں لے لیا جو خرطوم میں اُس عدالت کے باہر احتجاج کررہی تھیں، جہاں لبنیٰ پر مقدمہ چلایا گیا ہے۔

پچھلے ہفتے ایمنسٹی انٹر نیشنل نے سوڈان کی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اُن کے خلاف الزامات واپس لے اور اُس قانون کو منسوخ کرے، جس میں ایسا لباس پہننے پر عورتوں کے لیے کوڑوں کی سزا کا جواز فراہم کیا گیاہے، جسے ناشائستہ خیال کیا جاتا ہو۔

لُبنیٰ حسین چونکہ سوڈان میں اقوامِ متحدہ کے مشن سے وابستہ پریس آفیسر ہیں، اس لیے وہ تعزیری کارروائى سے مامون تھیں۔ تاہم انہوں نے قانون کو چیلنج کرنے کے لیے اپنے اس حق سے دست براد ہونے کا فیصلہ کیا۔

غالب مسلم اکثریت کے شمالی سوڈان میں اسلامی قوانین نافذ ہیں جن میں گھر سے باہر لباس کے معاملے میں عورتوں پر کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ لُبنیٰ حسین اور خواتین کی کچھ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون اس بارے میں مبہم ہے کہ کونسا لباس “ناشائستہ” ہے۔

سوڈان کے سابق صدر جعفر نِمیری نے 1983ء میں سوڈان میں اسلامی شرعی نظام نافذ کیا تھا۔ اس اقدام کے نتیجے میں جنوبی سوڈان کا وہ خطّہ الگ تھلگ ہوگیا تھا جہاں اکثریت غیر مسلموں کی ہے۔ بیشتر لوگوں کے خیال میں یہی مسئلہ سوڈان میں 21 سال سے جاری خانہ جنگی کا باعث ہے۔