لندن میں قائم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سعودی عرب پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ یہ خلاف ورزیاں 2001 میں دہشت گردی کے انسداد کی کارروائیوں کے بعد شروع ہوئی تھیں۔ سعودی کہتے ہیں کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے ۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قومی سلامتی کے نام پرسعودی پولیس نے ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور ان میں سے بہت سوں کو کوئی وجہ بتائے بغیر خفیہ مقامات پر رکھا ہوا ہے۔ سعودی وزیرِ داخلہ شہزادہ نائف بن عبد العزیز نے سعودی سیکورٹی فورسز کے سامنے ایک تقریر میں اپنے ملک کے ریکارڈ کا دفاع کیا۔ انھوں نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کے بہکاوے میں آکر دہشت گرد اپنے ہی ہم وطنوں کو ہلاک کر رہے تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ ہم ان کا مقابلہ کریں چاہے اس کی کتنی ہی بڑی قیمت ادا کیوں نہ کرنی پڑے۔ انھوں نے کہا’’یہ بڑے دکھ کی بات ہے کہ ہمارے اپنے بیٹے خود اپنے ہی ملک اور اپنے دین کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ وہ بیرونی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اگرچہ ہو سکتا ہے کہ ا ن میں سے بہت سوں کو اس بات کا علم نہ ہو۔ ہم اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا کر لڑتے ہیں اور ہماے شہیدوں کو ان کی قربانیوں کا صلہ ضرور ملے گا۔‘‘
اِس مہینے کے شروع میں ایک سعودی عدالت نے القاعدہ کے تین سو سے زیادہ عسکریت پسندوں کو مقدمہ چلا کر سزا دی۔ ان میں سے ایک شخص کو موت کی سزا دی گئی۔اب تک سعودی حکام
دہشت گردوں پر مقدمہ چلانے میں پس و پیش سے کام لے رہے تھے اور مقدموں کی کارروائی دیکھنے کے لیے اب بھی عام آدمیوں کو عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔
2005 میں سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ نے دہشت گردوں کی آبادکاری کے لیے،جنہیں انھوں نے گمراہ دھڑے کا نام دیا، ایک پروگرام شروع کیا۔ اطلاعات کے مطابق، بہت سے سابق دہشت گرد تائب ہو کر معاشرے کا حصہ بن گئے ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق حال ہی میں جن لوگوں کو سزا دی گئی ہے، ا ن میں سےبہت سے لوگوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ سعودی وزارتِ داخلہ نے 2003 اور 2007 کے درمیان نو ہزار دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے تین ہزار ایک سو افراد اب بھی قید میں ہیں۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے لامری چیروف (Lamri Chirouf )کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو بلا جواز گرفتار کیا گیا ہے اور بعض گرفتاریوں سے واضح طور پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ’’آپ کسی بھی فعل کو دہشت گردی کا یا دہشت گردی کی کارروائی میں مدد دینے کا نام دے سکتے ہیں۔ سعودی عرب میں ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو پر تشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں جن کے نتیجے میں 2003 اور 2007 کے دوران بہت سے لوگ قتل اور اغوا کیے گئے تھے۔ لیکن بہت سے لوگوں کو انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر قید میں رکھا گیا ہے۔ برسوں سے ان لوگوں کو اپنی حراست کو چیلنج کرنے کے لیے کوئی قانونی سہولتیں یا قانونی مدد نہیں دی گئی ہے اور نہ ان پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔‘‘
چیروف نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ سعودی حکومت نے بہت سے دانشوروں کو محض اس لیے گرفتار کر لیا ہے کہ انھوں نے اندھا دھند گرفتاریوں پر تنقید کی تھی۔ ان میں وکیل،صحافی،مصنف اور یونیورسٹیوں کے پروفیسر شامل ہیں جنھوں نے کہا تھا کہ لوگوں کو اِس طرح قید کرنا غلط ہے اور حکومت نے انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کی ہیں۔ ایسا کہنے پر وہ یاتو دہشت گردوں کے ہمدرد یا خود دہشت گرد قرار دے دیے گئےہیں اورانہیں بھی قیدِ تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے ۔
سعودی روزنامے الوطن کے ایڈیٹر ان چیف جمال الکاشوگی( Jamal al Kashoggi )کہتے ہیں کہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی شکایتیں مبالغہ آمیز ہیں۔ انھوں نے کہا کہ’’میرے خیال میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات کرنا مبالغہ آمیزی ہے ۔ انھوں نے سیاسی قیدیوں یا اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں قید کیے جانے والوں اور دہشت گردوں کوگڈ مڈ کردیا ہے۔ گذشتہ چار یا پانچ سال کے اندر جو سینکڑوں افراد گرفتار کیے گئے ہیں، ان میں سے بہت سے دہشت گرد ہیں۔ یہ لوگ سعودی قانون کے تحت قید میں ہیں۔ حکومت مشتبہ افراد کو چھہ مہینے تک قید میں رکھ سکتی ہے اور اس کے بعد سیکورٹی کی بنیاد پر اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ بعض اوقات حکومت ہر بات ظاہر نہیں کر سکتی کیوں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔‘‘
یونیورسٹی آف پیرس میں سیاسیات کے پروفیسر خطار ابودیاب (Khattar Abou Diab) کہتے ہیں سعودی حکومت اسلام کے شرعی قانون کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس لیے دنیا کی دوسری حکومتوں اور قانونی نظاموں سے اس کا موازنہ کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کے غیر جانبدار کمیشن کا قیام، قیدیوں کی آبادکاری کا نظام اور پولیس کے اقدامات کے خلاف کارروائی کرنے کا طریقۂ کار ، ان سب چیزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی نظام اگر ہر لحاظ سے مکمل نہ ہو تو بھی اس میں اصلاحات کا عمل جاری ہے ۔