وائس آف امریکہ کے ریڈیو ڈیوہ کے لیے کام کرنے والے اُس پاکستانی صحافی کو امریکہ کے امّیگریشن حکام نے تحویل میں لے لیا ہے جس کے گھر کو طالبان جنگ جوؤں نے پچھلے مہینے شمال مغربی پاکستان میں تباہ کردیا تھا۔
امّیگریشن اینڈ کسٹمز انفورس منٹ کے ایک عہدے دار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رحمٰن بونیری کو اتوار کے روز اُس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب وہ واشنگٹن کے نواح میں ڈلس ایر پورٹ پہنچے تھے۔ تاہم عہدے دار نے یہ بتانے سے انکار کردیا کہ اُنہیں کیوں حراست میں لیا گیا۔
رحمان بونیری جنھیں امریکی امیگریشن حکام نے حراست میں لے لیا ہےبونیری امریکہ کے ایک جائز جے وَن ویزا کے ساتھ سفر کررہے تھے، جو اُنہیں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے جاری کیا تھا اور جس کے تحت اُنہیں امریکہ میں ایک سال تک کام کرنے کی اجازت دی گئى تھی۔
وائس آف امریکہ کی ترجمان جون موور نے کہا ہے کہ ادارے کو اس صورتِ حال پر سخت تشویش ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی سی پی جے نے بھی بونیری کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بونیری کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ میں طویل عرصے تک قیام کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ اور انہیں حال ہی میں جو دھمکیاں موصول ہوئى تھیں، اُن کے پیشِ نظر وہ کچھ وقت پاکستان سے باہر گزارنا چاہتے تھے۔
پچھلے مہینے جنگ جوؤں کا ایک جتھا شمال مغربی پاکستان کے ضلع بونیر میں بونیری کے گھر پر پہنچا تھا اور بونیری کے گھر والوں سے کہا کہ اُنہیں اس گھر کو تباہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنگ جوؤں نے اُس کے خاندان کے 11 افراد کو گھر سے نکل جانے کی اجازت دی۔ اس کے بعد اُنہوں نے قیمتی اشیا لُوٹنے کے لیے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور اس کے بعد گھر کو بارُود کے دھماکوں سے تباہ کردیا۔
دھماکوں میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی تھی اور بونیری اُس وقت گھر میں نہیں تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ طالبان نے ہوسکتا ہے اُن کی اُس رپورٹ پر برہم ہوکر یہ کارروائى کی ہو، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی حکومت کے اس دعوے کے برعکس کہ علاقے سے طالبان جنگ جوؤں اور اُن کے اتحادیوں کا بڑی حد تک صفایا کردیا گیا ہے، بونیر کے کئى دیہات میں جنگ جو ابھی تک گشت کررہے ہیں۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنگ جوؤں نے دھمکی دی ہے کہ وہ اُن کے خلاف مزید کارروائى کریں گے۔
سی پی جے نے کہا ہے کہ حال ہی میں ایسے کئى صحافیوں کو دھمکیوں اور تشدّد کا سامنا کرنا پڑا ہے جن کے بارے میں یہ سمجھا گیا کہ وہ طالبان پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔