چھ چینی مسلمان اتوار کے روز جزیرہ پالاؤ پہنچ گئے ہیں
گوانتانمو بے، کیوبا کے امریکی حراستی مرکز سے رہا کیے گئے چھ چینی مسلمان اتوار کے روز جزیرہ پالاؤ پہنچ گئے ہیں، جنہیں پیسفک میں واقع یہ جزیرہ اپنے ہاں آباد کرنے پر رضامندی کا اظہار کرچکاہے ۔
ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جزیرہ پالاؤ کے صدر جانسن توری بیانگ نے پالاؤ کے ہوائی اڈے پر ان ایغور باشندوں سے ملاقات کی۔
بیان میں کہاگیا ہے کہ ان ایغور باشندوں کو طبی سہولتیں، رہائش اور تعلیم فراہم کی جائے گی جن میں انگریزی بول چال اور ایسے ہنر سکھائے جائیں گے جن کی مدد سے وہ اپنی روزی کما سکیں گے۔
پالاؤ اس سال کے شروع میں ان ایغورباشندوں کو قبول کرنے پررضامند ہوا تھا جو امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس تعین کے بعد بھی کہ وہ امریکہ کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں، گوانتانمو بے میں زیر حراست رکھے جارہے تھے ۔
اس سال کے شروع میں چار ایغور باشندوں کو برمیودا میں آباد کیا گیاتھا۔
ان افراد کا تعلق چین کے مغربی صوبے سنکیانگ سے ہے جو ایغور اکثریتی علاقہ ہے۔ چین ان پر دہشت گرد ہونے کاالزام عائد کرتا ہے۔ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اگر ان ایغور باشندوں کو چین واپس بھیجا گیا تو ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیاجائے گا۔
امریکی سپریم کورٹ 20 اکتوبر کو گوانتانمو بے میں قید ان 13 ایغور باشندوں کی اپیل کی سماعت پر رضامند ہوگئی تھی ۔
ایک وفاقی امریکی جج نے ان افرادکو امریکہ میں رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ایک اپیل کورٹ نے اس فیصلے کو یہ کہتے ہوئے منسوخ کردیا تھا کہ اس جج کے پاس ایسے کسی حکم کا کوئی اختیار نہیں تھا۔