ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

حقوقِ انساں RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

جنگی جرائم کی رپورٹ پر اسرائیل کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا

شیئر کیجیئے

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی طرف سے گولڈ سٹون رپورٹ کی منظوری کے بعد اسرائیل کو بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں اسرائیل پر فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کا الزام ہے۔

گولڈ سٹون رپورٹ میں تقریباً ایک سال قبل غزہ کے تنازعے میں فلسطینیوں پر بھی جنگی جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

برطانوی وزیر ِ اعظم گورڈن براؤن اور فرانس کے صدر نکولا سرکوزی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامن نیتن یاہو کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے وہ گولڈسٹون رپورٹ سے تعاون کریں۔ اُنھوں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ گذشتہ سال دسمبر اور جنوری میں تین ہفتے جاری رہنے والے غزہ تنازعے میں مبینہ جنگی جرائم سرزد ہونے کی آزادانہ اور شفاف تفتیش کا اعلان کریں۔

انسانی حقوق کونسل کی قرارداد میں گولڈ سٹون رپورٹ کی سفارشات کی توثیق کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں اسرائیل اور فلسطینی شدت پسند اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتائیں کہ وہ جنگی جرائم کے الزامات کی چھان بین کررہے ہیں۔

اسرائیل نے رپورٹ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ یہ یک طرفہ اور تعصب پر مبنی ہے۔  اُس کا کہنا ہے کہ غزہ کی لڑائی خود حفاظتی جنگ تھی جو اس نے برسوں سے جاری  فلسطینی راکٹ حملوں کے جواب میں لڑی تھی۔ اسرائیلی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم کی چھان بین کا مطلب اپنی خطا کا اقرار ہوگا۔

لیکن ‘ یروشلم پوسٹ’ کے ایڈیٹر ڈیوڈ ہوروز کہتے ہیں کہ جارحانہ اصرار، مقصد فوت کرانے والے اقدام کے مترادف ہوگا۔

‘میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ وہ اس رپورٹ کو نظر انداز کر دے۔ قومی انصاف اور تفاخر اِس بات کا متقاضی ہے کہ مزید کچھ کیا جائے۔ میرے خیال میں اسرائیلی قیادت کی طرف سے یہ کہنا کہ یہ رپورٹ غیر منصفانہ ہے،  واضح طور پر متعصبانہ ہے جسے ہم جائز قرار نہیں دے سکتے یا جواب دے کر اِسے عزت نہیں بخش سکتے، میں نہیں سمجھتا کہ اسرائیل ایسا کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے۔

 فلسطینی قانون ساز مصطفیٰ برغوطی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا احتساب ہونا چاہیئے۔ اُنھوں نےجنگی جرائم سے متعلق بین الاقوامی مقدمات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے  بلاجواز بچوں کو ہلاک کیا یا بغیر وجہ کے شہریوں کو نقصان پہنچایا یاکسی نےبلاوجہ بچوں کو ہلاک کیا اُسے عدالت کا سامنا کرنا چاہیئے۔

وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے عہدے داروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ طویل سفارتی، قانونی اورپبلک ریلیشنز کی جنگ کے لیے تیار رہیں جس میں دہشت گردی کے خلاف دفاع کے اسرائیل کے حق کی وضاحت کرنا مقصود ہوگی۔ ان کے بقول ہم اُن کو غلط ثابت کریں گے جو ہمیں  غلط ثابت کرنے پر تُلا ہوا ہے۔