ایران کے صدارتی انتخاب میں ہارے ہوئے اُمیدوار مسٹر حسین موسوی کی بیوی نے کہا ہے کہ اُن کے بھائى بھی اُن سینکڑوں لوگوں میں شامل ہیں، جنہیں ایران کے متنازع انتخاب کے بعد حزبِ اختلاف کے احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کرلیا گیا تھا۔
زہرہ راہ نورد نے جمعرات کے روز ایران کی خبر رساں ایجنسی اِلنا کو بتایا ہے کہ اُن کے 62 سالہ بھائى شاہ پور کاظمی ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔راہ نورد کا کہنا ہے کہ اُن کے بھائى مواصلات کے ماہر ہیں اور اُن کا سیاست سے کوئى تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس قسم کے الزامات کا تصّور بھی نہیں کیا کہ انہوں نے لوگوں کو فساد پر اُکسایا تھا یا اُن کے غیر ملکیوں سے رابطے تھے۔
موسوی کی بیوی نے ایرانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اُن کے بھائى اور دوسرے نظر بندوں پر اقبالِ جرم کے لیے جبر نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسےہر الزام کو قوم ردّ کردے گی۔ایرانی سیکیورٹی کے عہدے داروں نے اس ہفتے حکام پر زور دیا تھا کے وہ نظر بندوں کے”اقبالِ جرم“ کے بیانات سے عوام کو آگاہ کریں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بعد حزبِ اختلاف کے حامیوں کی پکڑ دھکڑ کے دوران، سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اور احتجاجی مظاہروں کے دوران کم سے کم 20 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
موسوی کا کہنا ہے کہ 12جون کے الیکشن میں موجودہ صدر محمود احمدی نژاد کے حق میں دھاندلی کی گئى تھی۔