عرب مورخ عربوں کی زندگی کی سچی عکاسی کرے گا۔ ترقی کے بارے میں چھوٹی سچی رپورٹوں کو مسترد کیا جائے گا اور انہیں لکھنے والوں کی منافقت طشت از بام ہوگی۔
سچ تو یہ ہے کہ عرب ملکوں میں گئی گذری حکومتیں ہیں اور مخالفین ان سے بدتر ہیں۔ ایک جانب مطلق العنان حکمران ہیں، دوسری جانب مذہبی انتہا پسند ہیں۔
فواد عجمی نے، جو جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور سٹینفرڈ یونیورسٹی میں سیاسات پڑھاتے ہیں، وال سٹریٹ جرنل میں آرا کے سیکشن میں لکھا ہے کہ مصری سیاسی مخالفین آج کل ایران پر رشک کررہے ہیں کہ وہاں عوام مذہبی انتہا پسندی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ عربوں کے پاس تعداد بھی ہے (تازہ ترین شماریات کے مطابق اڑتیس کروڑ) اور دولت بھی۔ اس کے باوجود انہوں نے ایرانی عوام کی مدد کرنے کے بجائے اس مسئلے سے آنکھیں بند کر لی ہیں کہ یا تو امریکہ یہ کام کرے یا پھر اسرائیل، ایرانیوں کو پنجہٴ استبداد سے نجات دلائے۔
اس وقت ہم عرب ممالک کی اس سرجری کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو وقتاً فوقتاً معرضِ وجود میں آیا کرتی ہے۔ ہمارے سامنے عربوں کی ترقی 2009 کی رپورٹ ہے۔ جو کہ اقوام ِ متحدہ نے شائع کی ہے۔
ایسی رپورٹ پہلے پہل 2002 میں منظر ِ عام پر آئی تھی۔ اس پر کافی تنقید ہوئی تھی۔ باور کیا جاتا تھا کہ سچائی کے علمبردار عربوں کے ایک گروپ نے کسی قدر تامل اور ہچکچاہٹ کے ساتھ دنیا کو عرب ممالک کی تصویر دکھائی ہے۔ اس میں آمرانہ سیاست، معاشی انجماد، اور تہذیبی زوال شامل تھا۔ اس میں بتایا گیا کہ تمام عرب ممالک مل کر اتنی مصنوعات نہیں بناتے جتنی فن لینڈ جہاں محض پچاس لاکھ کی آبادی ہے۔ یونان میں گیارہ ملین لوگ ہیں، اور وہاں اپنی زبان میں غیر ملکی کتابوں کے تراجم وہ عربوں سے پانچ گنا زیادہ کرتے ہیں۔ تیل کے اتنے وسائل کے باوجود کروڑوں عرب خط ِ غربت سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔
اس نئی رپورٹ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ تیل کی پہلے سے زیادہ بہتات ہوئی لیکن عربوں کی حالت بدتر ہوئی ہے، بہتر نہیں۔ ابھی تک آمروں کا بھی کوئی حساب نہیں لیا گیا۔ اگرچہ انہیں اب بھی کوئی پسند نہیں کرتا لیکن وہ ابھی تک اقتدار میں ہیں۔
آمروں نے نہ تو عوام کے لئے تعلیم کا مناسب بندوبست کیا ہے نہ ہی معیشت بہتر بنائی ہے لیکن انہوں نے اپنی نشتوں پر قائم رہنے کا ہنردرجہٴ کمال کو پہنچا رکھا ہے۔ عربی میں، جس کے کھاؤاسی کے گن گاؤ، سے ملتا جلتا محاورہ ہے کہ جس شاہ سے نوالہ حاصل کرو اسی کی تلوارلے کر لڑائی کرو۔ چنانچہ حکمران طبقوں کا ملکی معاشی وسائل پر قبضہ ہے جس کے نتیجے میں برسر اقتدار ٹولوں اور ان کی سکیورٹی افواج کی پانچوں گھی میں ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ عرب ملکوں میں گئی گذری حکومتیں ہیں اور مخالفین ان سے بدتر ہیں۔ ایک جانب مطلق العنان حکمران ہیں، دوسری جانب مذہبی انتہا پسند ہیں۔ چھوٹا اور کمزور سا درمیانی طبقہ ہے جو ان دونوں کے درمیان میں پھنسا ہے، اور ان دونوں کو شدید ناپسند کرتا ہے۔ حکومتی ٹولوں سے اسے نفرت ہے اور مذہبی انتہا پسندوں سے وہ ڈرتا ہے۔
بلکہ جو دانش ور طبقہ ہے اور جسے موجودہ رپورٹ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، وہ بھی فرشتے نہیں ہیں۔ عرب دنیا میں مظالم کی کمی نہیں، تاہم یہ طبقہ عراق کے بارے میں بطورِ خاص فکرمند ہے۔ وہ کہتے ہیں عراق میں امریکی مداخلت سے ملک دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ بعث پارٹی سیکولر کلچر کی آئینہ دار تھی لیکن امریکی مداخلت نے آپس کے تنازعوں کو ہوا دی ہے۔ ان کی رپورٹ کے مطابق عراق میں بدنظمی اور افراتفری زوروں پر ہے اور وہاں جنگجوؤں کا راج ہے۔
عشروں تک عرب کہتے رہے ہیں کہ امریکہ ان کے علاقوں میں آمروں کا ساتھ دیتا ہے۔ عرب اس تمام تاریخ سے واقف ہیں بے شک وہ کچھ ہی کہیں۔ اور سروے کرنے والوں کو وہی کچھ بتائیں جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ مسٹر بش نے فلسطنیی علاقوں میں انتخابات میں دخل اندازی کی اور یوں اور اس سے فائدہ حماس کو ہوا۔ تاہم انتخابات کے نتائج سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ اور پھر یہ امریکہ کی سفارتی پالیسیوں کا قصور تھوڑا ہی تھا کہ فلسطینی، جلد باز سیاست دانوں کے مطالبوں سے جان چھڑانے کے لئے ایک پھر انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ گئے۔
اب عرب اپنی تاریخ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب جارج بش کے بجائے امریکی صدر باراک حسین اوباما ہیں۔ عربوں کو اوباما بہت پسند ہیں۔ انہوں نے قاہرہ میں تقریر کی جس نے جشن کا سماں پیدا کر دیا۔ اور امریکی مخالف ماحول تبدیل ہوا۔ یہ مسٹر اوباما کا بڑا کارنامہ تھا اور ان کی مقررانہ صلاحیتوں کا کمال۔
عوام الناس نے محسوس کیا کہ نیا امریکی لیڈر ان کے مسائل کو سمجھتا ہے۔ تاہم برسرپیکار اعتدال پسند اور آمریت کے مخالفین کی سوچ مختلف تھی۔ انہیں امریکہ کی نئی انوکھی پالیسی سے خاص امید نہیں تھی۔ یہاں بھی مسائل سے چشم پوشی ویسی ہی تھی اورآزادی کی جدوجہد کے نتیجے میں منڈلانے والے خطرے مول لینے سے بہتر سمجھا گیا کہ حالات کو جوں کا توں رہنے دیا جائے۔ اگر عربوں کو شک ہے تو اپنے ہمسائے ایران کی طرف دیکھیں۔ تب انہیں معلوم ہوگا کہ واشنگٹن کا مزاج آج کل کیسا ہے۔
جب عربوں کی ایک اور تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں حسرتوں اور کھوئے ہوئے مواقع کا ذکر ہوگا۔ حسب سابق بتایا جائے گا کہ کیسے امریکہ کی مداخلت سے عرب آمروں کو کان ہوئے اور بغداد اور بیروت میں برادرانہ قبضے کا آخر کار کام تمام ہوا۔ تاہم اس دستاویز میں عربوں کی زندگی کی سچی عکاسی ہوگی اور ترقی کے بارے میں چھوٹی سچی رپورٹوں کو مسترد کیا جائے گا اور انہیں لکھنے والوں کی منافقت طشت از بام ہوگی۔
(وال سٹریٹ جرنل سے ماخوذ)