اُنھوں نے کہا کہ وفاقی ملازمت میں بلوچستان کا کوٹہ 7.3فی صد ہے، جب کہ بلوچ نوجوان ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ ‘یہ بلوچستان کا حق ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جو لوگ اغوا کرسکتے ہیں وہ مار بھی سکتے ہیں۔
نیشنل پارٹی کے سربراہ، سنیٹر میر حاصل بزنجو کا کہنا ہے کہ پچاس کے عشرے سےلے کر اب تک جتنی بغاوتیں ہوئی ہیں وہ سیاسی نوعیت کی تھیں اور اُن کی بنیاد قوم پرستی پر تھی، لیکن اُن کے بقول، کبھی بھی عام آدمی اِس کا نشانہ نہیں بنا۔
اِس ضمن میں اُنھوں نے پچاس ، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کی بغاوتوں کو تذکرہ کیا۔ اُن کے بقول، ‘اِن سب میں جو جھگڑا رہا وہ مسلح افواج کے ساتھ رہا۔’
ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ ‘بدقسمتی سے اِس مرتبہ عام آدمی بھی اِس کا نشانہ بن رہا ہے، جِس کی وجہ سے تھوڑا بہت قومیت کی سیاست کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اِس کا جو مجموعی تاثر سامنے آ رہا ہے وہ بہت اچھا نہیں۔’
ساتھ ہی اُن کا کہنا تھا کہ ‘بلوچ یہ سمجھنے لگا ہے کہ جب تک میں بندوق اُٹھا کر کسی کو مار نہیں دیتا، مجھ سے کوئی بات ہی نہیں کرتا۔’
جب اُن کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے مقرر کردہ کمیشن نے سفارشات پیش کرنے سے پہلے بلوچوں سے مشورہ کیا ہے۔ اِس پر میر حاصل بزنجو نے کہا کہ حکومت نےپہلی، دوسری پھر تیسری کمیٹی بنا ڈالی اور کہا کہ معافی مانگ لی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاقی ملازمت میں بلوچستان کا کوٹہ 7.3فی صد ہے، جب کہ بلوچ نوجوان ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ ‘یہ بلوچستان کا حق ہے۔ اِس میں (نہ تو) کسی سفارش یا ترمیم کی ضرورت نہیں، اِس پر کیوں عمل نہیں ہوتا؟ اِس پر عمل سےبلوچ نوجوان پر اِس کااچھا اثر ہوگا۔’
جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا یہ کہنا درست ہے کہ بلوچستان کے سکولوں میں قومی ترانہ نہیں پڑھا جاتا، تو اُنھوں نے کہا کہ ‘یہ بالکل صحیح ہے۔ اِس میں کوئی دو رائے نہیں۔’ اُن کے مطابق، ‘یہ لاوا عرصے سے پک رہا تھا، اچانک توسامنے نہیں آیا؟۔’
نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ جب تشدد آتا ہے تو اُس کے نتیجے میں دہشت گردی پنپتی ہے ۔
بلوچستان کی موجودہ سول حکومت کے بارے میں ایک سوال پر، اُنھوں نے کہا، ‘ کوئی بہتری نظر نہیں آرہی۔’
اغوا کاروں کی طرف سے دی گئی دھمکی پرکہ اگر اُن کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو باقی مغوی بھی ہلاک کردیے جائیں گے، اُن کا کہنا تھا کہ جو لوگ اغوا کرسکتے ہیں وہ مار بھی سکتے ہیں۔
چار پولیس اہل کاروں کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے، معروف تجزیہ کار پروفیسر شمیم اختر نے بتایا کہ اغوا کے حوالے سے بلوچ ری پبلیکن آرمی اور بلوچ لبریشن یونائٹد فرنٹ کے نام لیے جاتے ہیں۔
جب اُن سے پوچھا گیا کہ ہلاکتوں میں خود بلوچ بھی شامل ہیٕں، اُس پر پروفیسر شمیم نے بتایا کہ یہ وہ بلوچ ہیں جِن پر شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ مخبرہیں یا اُن کی ہمدردیاں وفاق کے ساتھ ہیں۔
بلوچ تحریک کے پیچھے کیا محرکات کارفرما ہیں، ان کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل میں بلوچوں کومبینہ طور پر نظر انداز کرنے کا دعویٰ اِس کا اہم عنصر بتایا جاتا ہے۔
اِس سوال پر کہ بلوچستان کو پُر سکون رکھنے کے لیے فوری طور پر کیا ممکن ہے، تجزیہ کارکے مطابق خیر سگالی کے طور پر عام معافی کا اعلان کیا جائے۔