ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

سائنس و صحت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

فزکس کا نوبیل انعام ڈجیٹل کیمرا اور فائبر آپٹکس ٹیکنالوجی پر

شیئر کیجیئے

اس سال طبعیات کا نوبیل انعام تین سائنس دانوں کو ملا ہے۔ یہ انعام چارلس کاؤ، ولرڈ بوائلے اور جارج سمتھ کو فائبر آپٹکس لائٹ ٹرانسمشن پر ان کی تحقیق اور  ڈجیٹل امیجنگ سیمی کنڈکٹر سرکٹ ایجاد کرنے پر دیا گیا ہے۔

شنگھائی میں پیدا ہونے والے برطانوی نژاد امریکی شہری چارلس کاؤ کو اس سال کے نوبل انعام سے نصف حصہ اپنی اس تحقیق پر ملا ہے جس کے نتیجے میں فائبر آپٹکس کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ان کی کاوشوں کا عمل اطلاق ہر جگہ دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ وہ فائبرز ہیں جو عالمی براڈ بینڈ کے ان مواصلاتی رابطوں میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں جو اب دنیا کے اکثر علاقوں میں کثرت سے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

فزکس پر نوبیل انعام کی کمیٹی کے چیئر مین جوزف نارڈ گرین کہتے ہیں کہ آج 21 ویں صدی ہم جو مواصلاتی نظام استعمال کررہے ہیں اس کے لیے مسٹر کاؤ کی تحقیق سے فی الحقیقت بہت مدد ملی ہے۔

انہوں نے کہا مسٹر کاؤ نے ایسےکم قیمت فائبرز کے حصول کے لیے ایسا طریقہ دریافت کیا جس کی طویل فاصلوں تک مواصلاتی رابطوں کے لیے ضرورت تھی اور اس کے نتیجے میں چند ہی سال کے بعد یہ فائبرز کامیابی سے تیار ہونا شروع ہوگئے۔ آج ایک ارب کلو میٹر سے زیادہ آپٹیکل فائبرز دنیا بھر میں استعمال ہورہے ہیں جو دور جدید کے عالمی مواصلاتی رابطوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

انعام کا دوسرا نصف حصہ کیینڈا نژاد امریکی شہری ولرڈ بوائل اور امریکی شہر جارج سمتھ کو دیا گیا ہے۔ انہوں نے نیوجرسی کی بیل لبیارٹری میں مشترکہ طور پر کام کرکے ڈیجیٹل سینسر کی مدد سے تصویریں اتارنے کی پہلی کامیاب ٹیکنالوجی دریافت کی تھی۔

پروفیسر نارڈ گرین کہتے ہیں کہ ان کی یہ تحقیق اس شعبے میں ہونے والی اولین تحقیق ہے جس  سے ہمیں ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے میں مدد ملی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 1969ء میں ڈاکٹر ولرڈ بوائل اور ڈاکٹر جارج سمتھ نے سیمی کنڈکٹر آلہ سی سی ڈی سنسر ایجاد کیا تھا۔اس آلے کی مدد سے چیزوں کی تصاویر کو الیکٹرانک طریقے سے ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔ آج دنیا بھر میں ڈجیٹل کیمروں میں یہ سنسر استعمال ہوتا ہے۔ سی سی ڈی چیزوں کے عکس کو فلم کی بجائے پکسلز کی صورت میں محفوظ کردیتا ہے۔

سویڈن میں انعامات کے اعلان کے بعد جب مسٹر بوائل سے پوچھا گیا کہ اس جیت پر وہ کیا محسوس کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابھی تک اپنی صبح کی کافی نہیں پی ہے، اس لیے میں اس پر اس وقت کچھ زیادہ بہتر محسوس نہیں کررہا۔ لیکن آہستہ آہستہ میرے اندر خوشی کا احساس پیدا ہو رہا ہے اور جو مجھ سے کہہ رہاہے کہ واقعی یہ ایک بہت خوشی کی بات ہے۔لیکن مجھے یقین نہیں آرہا کہ یہ واقعی حقیقت ہے۔

فزکس پر یہ انعام نوبیل انعامات کے سلسلے کا دوسرا انعام ہے۔