عیدکی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے خواتین اپنے ہاتھوں پر مہندی لگاتی ہیں۔ لیکن اس بار بہار اورجھارکھنڈ میں ہزاروں خواتین کو ہاتھوں پر مہندی رچانا بہت مہنگا پڑا۔ سینکڑوں ہی نہیں ہزاروں خواتین پٹنہ، بہار شریف، مونگیر، نوادہ، گیا، جہان آباد، سیتامڑھی، سیوان، گوپال گنج، بھاگلپور کے اسپتال پہنچ گئیں۔ یہی صورتِ حال جھارکھنڈ میں تھی کہ رانچی، جمشید پور، ہزاری باغ، دیو گھر، دھنباد، صاحب گنج، ڈالٹین گنج کے ہزاروں گھروں میں کہرام مچ گیا۔ مہندی میں کیمیائی ملاوٹ کے سبب ان کے ہاتھوں میں صرف آبلے پڑ گئے۔
اس طرح سے دونوں ریاستوں میں عید کی خوشیاں پھیکی پڑ گئیں۔ مساجد کے جن لاؤڈ اسپیکروں سے عید کی خوشیوں کا اعلان ہوا کرتا تھا وہاں سے یہ اعلانات کیے جانے لگیں کہ خواتین ہاتھوں پر مہندی نہ لگائیں اور اگر کسی نے لگائی ہے تو فوری طور پر دھو کر جراثیم کش دوا کا استعمال کریں۔ ان اعلانات کے سبب عید کے رنگوں پر دہشت کا سایہ طاری ہو گیا۔
بیشتر گھروں میں لڑکیوں اور عورتوں کے اس طرح اچانک بیمار ہوجانے کے سبب لوگوں کی جان مصیبت میں آگئی تھی۔ سب سے بڑی مشکل تو یہ تھی کہ الرجی کو رفع کرنے والی دوائیں بازار میں نایاب ہو گئیں۔ دوا کی دکانوں پر بھیڑ جمع تھی اور کئی مقامات پر تو ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولس کو لاٹھی چارج تک کر نا پڑا۔
بیشتر بچیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد بچا لیا گیا اور کچھ اب بھی اسپتال میں ہیں لیکن جھارکھنڈ کے گھاٹ شیلا میں ایک خاتون کی موت واقع ہو گئی۔ اس سلسلے میں بہارو جھارکھنڈ کی حکومتوں نے فوری طور پر مہندی کے پیکٹوں کو ضبط کرنے کا حکم دیا اور جن لوگوں کے پاس مہندی بچی ہوئی تھی انہیں فوری طور پر جمع کر دینے کے لیے کہا گیا۔ ان کے نمونوں کو طبی جانچ کے لیے لیبوریٹری میں بھیجا گیا ہے کہ آخر کن کیمیائی اجزاء کے سبب ایسا ہوا۔
بہارکے داخلہ سکریٹری افضل امان اللہ نے بتایا کہ بازار میں دستیاب تمام پیکٹ ضبط کر لیے گئے ہیں اور انہیں فورنزک جانچ کے لیے لیبارٹری میں بھیجا گیا ہے۔ رپورٹ آجانے کے بعد ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جہاں سے یہ ناقص مہندی سپلائی ہوئی ہے۔
بہار کے ڈائریکٹر جنرل پولس آنند شنکر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے سبب ریاست میں کافی دشواریاں پیش آئی ہیں اس لیے اس کے ذمے داران کو بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جن خواتین کے ہاتھوں پر آبلے پڑ گئے ہیں یا ان کی طبیعت خراب ہوئی ہے اس کی بھی خفیہ رپورٹ حاصل کی گئی ہے۔ ریاست کے شعبہٴ صحت کے سکریٹری سی کے مشرا کا کہنا ہے کہ تمام نمونوں کی جانچ کی جا رہی ہے اور رپورٹ آجانے کے بعد یہ آسانی سے پتا چل جائے گا کہ ان میں کون سے اجزا استعمال ہوئے تھے جن سے صارفین کو نقصان پہنچا ہے۔
مہندی کے اجزا کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں ایسے اجزا استعمال ہوتے ہیں جو جلد کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر امر کمار سنگھ کا کہنا ہے کہ اگر مہندی کا شوق ہے اس کے پتے بازار میں ملتے ہیں اسے گھر میں لا کر پاؤڈر بنا کر استعمال کرنا چاہیئے کیونکہ کیمکل مہندی کے استعمال سے ایکزما، الرجی، لال چکتے، جلن یا پھوڑے پھنسی ہو سکتے ہیں۔ کیمیکل مہندی لگانے سے جلد اور جسم کے حصوں پر اثر ہو سکتا ہے۔
مہندی لگا کر بیمار پڑنے والی کچھ خواتین گلشن، سفینہ، ناہید، ممتاز، حسینہ وغیرہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہاتھوں پر یہ مہندی لگانے کے سبب نہ صرف آبلے پڑ گئے بلکہ ہاتھوں میں جلن شروع ہوئی جو پورے جسم میں پھیل گئی۔ لیکن طبی علاج کے بعد انہیں اس مصیبت سے نجات ملی۔لیکن ان واقعات کے سبب بہار و جھارکھنڈ کے مسلمانوں کی عید تو پھیکی پڑ ہی گئی۔