سائنس دانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس بات کے شواہد دریافت کیے ہیں کہ جارجیا میں انسان نے آج سے 30 ہزار سال قبل نہ صرف پٹ سن سے رسی بنانے کا ہنر سیکھ لیا تھا بلکہ وہ اس پٹ سن کو رنگا بھی کرتا تھا۔
پٹ سن دنیا کی قدیم ترین فصلوں میں سے ایک ہے اور اسے ہزاروں سال سے کپڑا بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پٹ سن کے ریشوں سے رسیاں، کاغذ اور تھیلے بھی بنائے جاتے تھے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ آثارِ قدیمہ اوفر بار یوسف کہتے ہیں کہ وہ اور ان کے ساتھی مٹی کے کچھ نمونوں میں زردانہ (پولن) ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے تھے، جس سے زمانہٴ قبل از تاریخ کے موسموں کا پتا چلایا جا سکے۔ حادثاتی طور پر انھیں اسی مٹی میں پٹ سن کے کچھ ریشے نظر آئے۔ خوردبین سے مشاہدے کے بعد پتا چلا کہ ان ریشوں کو بٹ کر رسی بنائی گئی تھی، انھیں کاٹا گیا تھا اور اس علاقے میں پائے جانے والے پودوں سے رنگ حاصل کر کے انھیں رنگا بھی گیا تھا۔
یہ دریافت اس زمانے سے تعلق رکھتی ہے جب جدید انسان مشرقِ وسطیٰ سے نکل کر یورپ اور وسطی ایشیا کا رخ کر رہا تھا۔ یورپ میں انسان کا واسطہ انسان نما مخلوق نینڈرتھال سے پڑا، تاہم بہت جلد ہی دنیا سے اس مخلوق کا خاتمہ ہو گیا۔
پٹ سن کے یہ ریشے جارجیا کے ایک غار سے ملے ہیں، تاہم باریوسف کہتے ہیں کہ ممکن ہے انسان نے اس سے پہلے بھی پٹ سن کا استعمال شروع کر دیا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے پہلے نینڈرتھال نے پٹ سن کا استعمال سیکھا ہو اور جدید انسان نے ان کی دیکھا دیکھی اس ریشے سے رسی اور کپڑا بنانا شروع کر دیا ہو۔
یہ واضح نہیں ہے کہ قدیم انسان یا نینڈرتھال نے کیسے یہ اندازہ لگایا کہ کسی پودے کے ریشوں کو کارآمد طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم انھوں نے قیاس آرائی کی ہے کہ ممکن ہے سب سے پہلے کسی عورت نے یہ راز معلوم کیا ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں مرد زیادہ تر شکار کے لیے دور دراز علاقوں میں جایا کرتے تھے، جب کہ عورتیں اپنے ٹھکانے کے آس پاس ہی رہتی تھیں۔ چناں چہ انھیں قریبی پودوں اور درختوں کا بہ غور جائزہ لینے کا موقع ملتا رہتا تھا۔
باریوسف کا خیال ہے کہ پٹ سن کے اس قدیم نمونے کی حادثاتی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس کس طرح تاریخ کی گتھیاں سلجھانے میں مدد دے سکتی ہے۔
ان سائنس دانوں نے اسی غار کے اندر سے پٹ سن کے 1300 سے زیادہ ریشے دریافت کیے ہیں۔ بعض ریشے رنگے ہوئے اور بعض ہرن کی اون کے ساتھ بٹے ہوئے تھے۔