’فوج کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ چاند سے لوٹنے والے خلابازوں کے ساتھ کیا برتاؤ روا رکھا جانا چاہیئے‘
بز آلڈرن چاند پر ۔ یہ تصویر ان کے ساتھ نیل آرم سٹرانگ نے کھینچی تھی
خلاباز نیل آرم سٹرانگ اور بز آلڈرن 40 سال پہلے چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان تھے۔ آلڈرن کہتے ہیں کہ ان کے لیے سب سے مکلر کام زمین پر واپس آنا تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے کین ابرہام کے ساتھ مل کر’ شان دار ویرانی ‘ Magnificent Desolation کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے ۔
کتاب میں کہا گیا ہے کہ اپالو 11 کے مشن میں سب سے کامیاب لمحہ وہ تھا جب نیل آرم سٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تھا۔اس موقےا پر آرم سٹرانگ نے کہا تھا کہ انسان کا یہ ایک چھوٹا قدم درحقیقت انسانیت کے لیے بہت بڑی جست ہے۔
آرم سٹرانگ کے بعد ان کے ساتھی آلڈرن نے چاند کی سطح پر قدم رکھا تھا۔ انہوں نے چاند کے ویران اور پرکشش منظر کے تصویر کشی کرتے ہوئے کہا کہ وہ منظر عمر بھر ان کی زندگی میں شامل رہا۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کے لیے چیلنج یہ تھا کہ وہ زمین پر اب ایک ایسے شخص کے طورپر واپس جارہے تھے جسے دنیا کے مختلف مقامات پر ایک ہیرو اور ایک تاریخی شخصیت کا درجہ دیا جانا تھا اور انہیں بہت سی تقاریر کرنا تھیں، بہت سے انٹرویوز دینے تھے اور وہ ان سب کچھ کے لیے تیار نہیں تھے۔
چاند پر قدم رکھنے کے بعد آلڈرن ہیرو بن گئے۔ لیکن اس کے نتیجے میں ان کا بہ طور ایئر فورس کے افسر کا مقام پس منظر میں چلا گیا۔ وہ کہتےہیں کہ فوج کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ چاند سے لوٹنے والے خلابازوں کے ساتھ کیا برتاؤ روا رکھا جانا چاہیئے۔
انہیں لاس اینجلس کے قریب ایڈورڈ ایئر فورس بیس پر پائلٹوں کے تربیتی سکول کا انچارج بنادیا گیا، حالاں کہ آلڈرن تربیتی پائلٹ نہیں بلکہ لڑاکا پائلٹ تھے۔ وہ کوریا کی لڑائی کے دوران جنگی مشنز میں شامل رہے تھے اور وہ اپنے اس نئے عہدے سے کبھی بھی خوش نہیں رہے۔ اس لیے انہوں نے اگلے ہی سال ایئر فورس سے ریٹائرمنٹ لے لی۔
آلڈرن خلابازی کے شعبے کی ایک باصلاحیت شخصیت تھے۔ انہوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلابازی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی اور انہوں نے چاند کے مشن کے لیے کچھ نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں مدد کی تھی۔انہیں جنون کی حد تک اپنے شعبے سے لگاؤ تھا اور وہ اپنے کام کو سوفی صد حد تک درست کرنے کے قائل تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ چاند سے واپسی کے بعد ان کے ساتھ انہیں جن حالات کا سامنا ہوا، وہ اس سے کچھ غیر مطمئن تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں جہاں زبردست کامیابی حاصل ہوئی، وہاں انہیں مایوسی، اداسی اور ناامیدی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
آلڈرن کو ڈیپریشن کا مرض ورثے میں بھی ملا تھا۔ ان کی والدہ نے ان کے چاند پر اترنے سے ایک سال قبل خود کشی کرلی تھی۔
آلڈرن کہتے ہیں کہ انہیں پریشانی کی کیفیت میں نشے اور شراب نوشی میں سکون ڈھونڈنے کا رجحان بھی ورثے میں ملاتھا۔اپنی دو بیویوں سے طلاق کے بعد انہیں نفسیاتی علاج بھی کرانا پڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی موجودہ اہلیہ لوئس نے ان کی ان پریشانیوں کے اس دور میں ان کی ہر ممکن مدد کی۔ لوئس سے ان کی شادی 1988ء میں ہوئی تھی۔

سابق خلاباز آلڈرن اب دوسروں کو خلا کے بارے میں اپنے تجربات سے آگاہ کرنے اور خلائی پروگرام کے فروغ میں اپنا وقت گذارتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں معاشرے کے مختلف طبقہ ہائے فکر تک اپنے تجربات پہنچانے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ میں نے بچوں کے لیے کتابیں لکھی ہیں۔ میں نے ایک سائنسی ناول لکھاہے۔ میں نے سٹار ٹریک سے منسلک ٹیم کی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے اور مجھے توقع ہے کہ میں مستقبل میں مزید بہت کچھ کروں گا۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے شعبے سے بالکل مختلف شعبے یعنی موسیقی میں قدم رکھتے ہوئے کچھ ریپ موسیقاروں مثلاً سنوپ ڈوگ اور طالب کے ساتھ کام کیا ہے۔
آلڈرن کہتے ہیں کہ ان کی خواہش ہے کہ امریکہ سابق خلابازوں، خاص طورپر چاند کے مشنز کے خلابازوں کی صلاحیتوں سے بہتر طور فائدہ اٹھائے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ خلاباز کسی معاوضے کے بغیردوسرے خلائی اداروں اور دنیا بھر خلائی ماہرین تک اپنا علم اور تجربات پہنچا کر اپنے ملک کے ایک غیر سرکاری سفیر کے فرائض انجام دے سکتے ہیں۔
چاند کے شاندار مشن کی تکمیل کے بعد 79 سالہ آلڈرن ابھی تک فعال زندگی گذار رہے ہیں۔ وہ راکٹ ڈیزائن کرنے کی ایک کمپنی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں خلائی سیاحت کے فروغ کی ایک کمپنی بھی چلا رہے ہیں۔