ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

سائنس و صحت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

چھو کر محسوس کی جانے والی تھری ڈی تصویریں

شیئر کیجیئے


کیا آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ آپ مختلف چیزوں پر بنی ہوئی تھری ڈی تصویروں کو،جن کا بظاہر اصل سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،چھو کر خود کو یقین دلاسکیں گے کہ جوچیز آپ کو دکھائی دے رہی ہے، وہ اپنا وجود بھی رکھتی ہے۔ مثلاً کسی کتاب کی تھری ڈی تصویر دیکھنے کے بعد جب آپ اسے چھوئیں گے تو وہ واقعی آپ کو حقیقی کتاب جیسی لگے۔جی ہاں اب یہ ممکن ہے اورجاپانی سائنس دانوں نےسائنس فکشن کے اس تصور کو حقیقی روپ دینے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

تھری ڈی تصویریں جنہیں ہولوگرام کہا جاتا ہے، اب کوئی نئی بات نہیں رہی۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کا کثرت سے استعمال ہورہاہے۔ مثلاً کریڈٹ کارڈوں کو دھوکا دہی سے محفوظ رکھنے کے لیے ان پرکمپنی کا ایک چھوٹا سا ہولوگرام بنا ہوتا ہے۔ اسی طرح کے ہولوگرام آپ اپنی روزمرہ زندگی میں اور بھی کئی چیزوں پر دیکھتے ہوں گے۔

ٹوکیو یونیورسٹی کے پروفیسر ہیرو یوکی شینودا کہتے ہیں کہ اب تک ہولوگرام کا تعلق صرف نظر سے تھا کہ اوراسے دیکھ کر آپ کو ایسا لگتا تھا کہ اس چیز کی لمبائی چوڑائی اور اونچائی موجود ہے، لیکن جب آپ اسے چھوتے تھے تو پتا چلتا تھا کہ وہ محض نظر کا دھوکا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اب ہم نے ایک ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرلی ہے جس سے تھری ڈی تصویروں یا ہولوگرام میں احساس کا پہلو بھی شامل ہوگیا ہے، یعنی وہ چیز جس طرح کی دکھائی دیتی ہے، چھونے پر بھی وہی ہی محسوس ہوتی ہے۔

پروفیسر شینودا کا کہنا ہے کہ سائنس دان الٹرا ساؤنڈ لہروں کی مدد سے ایک ایسا سافٹ ویئر بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی تھری ڈی تصویر یا ہولوگرام کو چھوتا ہے توتصویر ایک ایسا دباؤ پیدا کرتی ہے جس سے چھونے والے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ کسی اصلی چیز کو چھورہاہے۔

سائنس دانوں نے اس ٹیکنالوجی کی تیاری میں ویڈیو گیم نن ٹینڈو کی معروف وائی گیمنگ ٹیکنالوجی سے مدد لی ہےاور جسے ہی کوئی ہاتھ ہولوگرام کو چھوتا ہے، ٹیکنالوجی متحرک ہوجاتی ہے۔

اب تک اس ٹیکنالوجی کے نسبتا ً سادہ چیزوں کے ہولوگرام پر تجربے کیے گئے ہیں جو کام یاب رہے ہیں۔ پروفیسر شینودا کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو کئی حقیقی چیزوں کے متبادل کے طورپر استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس طرح وہ ارزاں بھی ہوگی اور ماحول دوست بھی۔

(ایم ایس این بی سی سے ماخوذ)