ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

سائنس و صحت RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

مکمل طورپرشمسی توانائی سے کام کرنے والے مکان تیار کرلیے گئے

شیئر کیجیئے


گزشتہ سال امریکی آٹو انڈسٹری میں بحران کے بعد صدر براک اوباما  نے  ایسی گاڑیاں بنانے پر زور دیا تھا جو متبادل ایندھن پر چلتی ہوں۔ دنیا بھر میں توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش اور ان پر کام کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس کی ایک جھلک حال ہی میں امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں دیکھنے کو ملی جب 20یونیورسٹیوں کے طلبا وطالبات نے ایک مقابلے میں حصہ لیتے ہوئے ایسے گھر ڈیزائن کئے جن میں صرف شمسی توانائی استعمال کی جاتی ہے۔

نیشنل مال پر گھروں کی تعمیر پر کام زوروشور سے جاری ہے۔ عام گھروں کے برعکس ان کی تعمیر میں  انیٹوں اور سیمنٹ کا استعمال بہت کم ہے اورشیشے کا استعمال زیادہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ عام گھر ہیں بھی نہیں۔ امریکہ،  کینیڈا،  سپین اور جرمنی کی یونیورسٹیوں سے 800 طلبا وطالبات یہ گھر تعمیر کر رہے ہیں۔ بیس یونیورسٹیوں کےسٹوڈنٹس یہ گھر بنا کر ایک ایسے مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں جس کا مقصد ایسی ایجادات اور  ٹیکنالوجیز کی نمائش کرنا ہےجو گھریلوزندگی میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دیں۔

امریکہ کے توانائی کے وزیر  سٹیون چو نے مقابلے کے افتتاح کے موقع پر توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں تقریباَ  چالیس فی صد توانائی کمرشل اور گھریلو استعمال کی عمارتوں  میں  صرف ہوتی ہے۔ اورتونائی کے استعمال کا  یہی تناسب باقی دنیا میں بھی ہے۔

مقابلے میں شریک تمام ٹیموں کی کوشش تھی کہ وہ ان گھروں میں ایسی جدید ٹیکنالوجیز استعمال کریں جن سے کمرشل بجلی پر انحصار بالکل نہ ہو بلکہ بجلی سے چلنے والے تمام آلات شمسی توانائی   چلیں۔ اس کے علاوہ گھروں کی دیواریں،  فرش،  کھڑکیاں،  دروازے اور چھتیں   ایسے مٹریل سے تیار کی گئیں کہ وہ گرمی اور سردی کے موسموں میں سورج کی روشنی  کو گھر کو گرم یا ٹھنڈا رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔  مقابلے میں شریک سپین کی ٹیم  نے گھر  کی چھت پر  شمسی توانائی کے پینلز کو ایک گھومنے والے ڈھانچے پر اس طریقے سے نصب کیا کہ ان کا رخ اس طرف ہو جس طرف سورج کی روشنی ہو۔سپین کی یونیورسٹی  کے پروفیسر جیسیپی اڈیل نے اس چھت کے فوائد بتاتے ہوئے کہا کہ یہ  ہوا  سے حرکت کرنے والا ایک ڈھانچہ ہے جسے موٹر کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اور یہ دن کی روشنی کے ساتھ ساتھ گھومتا ہے۔

پروفیسر اڈیل  کہتے ہیں کہ گھر کے سامنے کے حصے پر شمسی توانائی کے پینل اس طرح  سے لگائے گئے ہیں جنہیں سورج  کی پوزیشن کی مناسبت سے ہاتھوں سے موڑا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے مکان  توانائی  کی اپنی ضروریات میں  خود کفیل ہوجاتا  ہے۔

وہ لوگ جو سوال کرتے ہیں کہ مستقبل کا گھر کیسا ہوگا تو جواب ہے کہ ان گھروں کو اس طرح ڈیزائن  کیا گیا ہے کہ انہیں گرم اور ٹھنڈا  رکھنے کے لئے  کم سے کم توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

مقابلے میں حصہ لینے والی نیویارک کی کارنل یونیورسٹی کی ٹیم 150 طلبا اور طالبات پر مشتمل ہے اور یہ ادارہ تیسری بار اس مقابلے میں شرکت کر رہا ہے۔ انہوں نے جو مکان بنایا ہے وہ گول ہے۔ ٹیم کے سربراہ  کرس ورنر کہتے ہیں کہ وہ گھر کا تمام پانی شمسی توانائی سے گرم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گھر مکمل طور پر شمسی توانائی استعمال کرتا ہے۔ اس گھر کی چھت پر شمسی توانائی کے 40 پینلز نصب  کئے گئے ہیں جو ضرورت کے لئے تمام توانائی پیدا کرتے ہیں۔ ہم گھر کا تمام پانی شمسی توانائی کے ذریعے گرم کرتے ہیں اور گھر کو گرم رکھنے کے لئے بھی شمسی توانائی استعمال کی جاتی  ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طلبا پر امید ہیں کہ شمسی پینلز گھر کی ضرورت سے زیادہ تونائی پیدا کریں گے جو وہ مقامی گرڈ کو فروخت کر سکیں گے۔

اس مرتبہ  مقابلے کےقواعد کے مطابق تمام گھروں میں توانائی ذخیرہ  کرنے کے لیے بیٹریز استعمال نہیں کی گئیں بلکہ انہیں مقامی گرڈ سے منسلک کیا گیا ہے۔ ان میں پیدا ہونے والی اضافی بجلی اس گرڈ میں منتقل کر دی جاتی ہے اور بوقت ضرورت وہاں سے دوبارہ حاصل کر کے گھر میں استعمال کی جاسکتی ہے۔

ان نمائشی گھروں میں استعمال کئے جانے والے بہت سے آلات اور ٹیکنالوجیز ایسی  ہیں جو عام لوگوں کے استعمال کے لئےکئی ترقی یافتہ ممالک کی  مارکیٹس میں دستاب  ہیں اور اس مقابلے سے ان چیزوں کو دنیا بھر میں متعارف کرنے میں مدد ملے گی۔